میانمر ،فوج نے اپنا گروہ میدان میں اتاردیا،مظاہرین پر حملے

117
میانمر: حکومت کا تختہ الٹنے پر فوج کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے‘ دوسری جانب آمریت کے حامی جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کررہے ہیں

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر کی باغی فوجی نے مظاہرین کو کچلنے کے لیے اپنے حامیوں کو میدان میں اتاردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بغاوت کرکے حکومت کا تختہ الٹنے والی فوج کے کٹھ پتلی شہریوں نے مظاہرین پر حملے کرکے انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران مختلف مقامات پر فوج کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئیں،جن میں فوجی غنڈے لوہے کے ڈنڈے اور چاقو لے کر احتجاج کرنے والے شہریوں پر پل پڑے۔ ینگون میں آمریت کے حامیوں کی جانب سے دھاووں کے دوران پولیس اہل کار خاموش تماشائی بنے رہے اور مسلح بلوائیوں کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس دوران مسلح افراد نے ہاتھوں میں بینر بھی اٹھارکھے، جن پر فوج سے اظہار یکجہتی اور عوامی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ جمعرات کے روز پولیس نے ینگون میں گلیوں اور سڑکوں پر موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی بھی کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں مظاہرین نے پرامن احتجاج کیا،جسے پولیس اور فوج نے پرتشدد بنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے نے میانمر کی فوج کے اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی۔ فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک میں فوجی بغاوت اور پر تشدد واقعات بڑھنے پر ملٹری اکاؤنٹ بند کیے گئے ہیں۔ ان حالات میں فوجی قیادت کو فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے۔ فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ فوج کے ذیلی اداروں اور ساتھ دینے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قبل ازیں فیس بک نے میانمر کی فوج کے کئی پیجز پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 2018 ء میں فیس بک نے فوج کے سینئر ترین جنرل من آنگ ہلینگ اور دیگر اعلیٰ افسران کے اکاؤنٹ منجمد کر دیے تھے۔ رواں برس یکم فروری کو آنگ سان سوچی کی حکومت کو اقتدار سے علاحدہ کرنے میں بھی جنرل من آنگ ہلینگ ہی سب سے نمایاں ہیں۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد فوجی حکومت نے ملک میں فیس بک کو بند کرنے کی کوشش بھی کی تھی، جو ناکام رہی تھی۔