سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اورہیلپ ایج انٹر نیشنل کے زیر اہتمام صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

139

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سندھ اسمبلی2016ء میں سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ پاس ہونے کے باوجود صوبہ بھر میں نفاذ نہ ہوسکا ہے۔

ایکٹ میں بزرگ شہریوں کوبارعایت علاج معالجے،مفت ادویات کی فراہمی،ہوائی سفر، ٹرانسپورٹ اور اشیاء ضروریہ میں 25فیصد رعایت سمیت دیگر سہولیات و مراعات دینے کے اقدامات کئے جانے تھے مگر کونسل اور کمیٹی کے ذریعہ بزرگ شہریوں کی بہبود کے لیے اقدامات اْٹھانے کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا ہے۔2017ء میں پاکستان میں بزرگ شہریوں کی آبادی 6.5فیصد تھی جس میں 2050تک 12فیصد اضا فہ ہونے کا امکان ہے۔ سندھ حکومت نیوکراچی میں بزرگ شہریوں کے لیے بہت جلد شیلٹر ہوم کا افتتاح کرنے والی ہے۔

صوبہ کے بزرگ شہریوں کے لیے شناختی کارڈ کی طرز پر آزادی کارڈ کے اجراء پر بھی غور شروع کردیا گیا ہے۔ ان باتوں کا انکشاف سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور ہیلپ ایج انٹر نیشنل کے زیر اہتمام بزرگوں کے حقوق کے تحفظ اور آگاہی کے حوالے سے میڈیا کے کردار پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ ورکشاپ میں ہوا۔سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے پروجیکٹ کی فوکل پرسن عروسہ کھٹی نے بزرگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آرگنائزیشن کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

ورکشاپ میں سماجی کارکن طاہرہ بلوچ، ایس آر ایس او کے پروجیکٹ کوآرڈینٹر مختیار کپری، پروجیکٹ کے ایڈوکیسی اینڈ کمیونیکیشن آفیسر عبدالقدوس، ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے ٹیکنیکل پرسن سید سجاد علی شاہ شریک تھے۔عروسہ کھٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بزرگ شہریوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے یہ معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے جس کے لیے عوامی آگاہی پروگرام کے فروغ کی ضرورت ہے۔کورونا وائرس کی وباء نے بزرگ شہریوں کو معاشی، معاشرتی اور صحت کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

اس حوالے سے سنیئر سٹیز نز کی بہبود کے لیے حکومت سندھ بھر پور اقدامات اْٹھا رہی ہے۔عروسہ کھٹی نے سینئر سٹیز نز ویلفیئر ایکٹ 2014ء کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے2014 ء میں قانون سازی کی اور 2016ء میں اسے سندھ اسمبلی منظور کیا تاہم ابھی تک اس ایکٹ کا نفاذ نہیں کیا جاسکا ہے۔انہوں نے بتایاکہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر بزرگ دوست نیٹ ورک کی تشکیل کی گئی ہے تاکہ اِن کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ صوبہ کے ہر ڈویڑن میں شیلٹر ہوم بنائے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور ہیلپ ایج انٹر نیشنل کی مشاورت سے اس ایکٹ کے رولز آف بزنس بھی مرتب کیے چکے ہیں۔مختیار کپری نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کی صوبہ کے سماجی مسائل کے حل اور بزرگ شہریوں کی بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور بزرگ شہریوں کے انسانی حقو ق کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی اہمیت کو واضح کیا۔

علاوہ ازیں ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے ٹیکنیکل پرسن سید سجاد علی شاہ کا کہنا تھا پاکستان میں بزرگ شہری کل آبادی کا 6.5فیصدہیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم بزرگ شہریوں کے حقوق کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں سینئر سٹیزنز کی بہبود کے لیے جذبہ پیدا کیا جاسکے۔انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کے تین صوبوں خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور صوبہ سندھ میں سینئر سٹیزنز ایکٹ پاس ہوچکا ہے۔جس کے عملی نفاز کے لیے ہم میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر جدوجہد کررہے ہیں۔

ورکشاپ میں شریک تمام میڈیا نمائندگان نے اس سلسلے میں جدوجہد تیز کر نے کے عمل میں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ورکشاپ میں دیگر صحافیوں کے ساتھ منیر عقیل انصاری،مونا خان،عبدالرزاق سروہی،عبدالصمد تاجی،ضیاء قریشی،مظر رضا،محمد قمرخان،شائستہ جلیل،سید محموداللہ،سرفرازاحمد،کامران شیخ نے شرکت کی۔

اس موقعے پر ہیلپ ایج انٹر نیشنل نے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے شرکاء کو پروجیکٹر کی مدد سے بریفینگ بھی دی۔