ٹنڈو آدم ،اہل خانہ کر یر غمال بناکر لوٹ مار ،مزاحمت پر ایک شخص قتل

22

ٹنڈوآدم (نمائندہ جسارت) ٹنڈوآدم میں تین مسلح افراد کا اہل خانہ کو یرغمال بنا کر لاکھوں روپے کی ڈکیتی، مزاحمت پر سفینہ منشیات کا ڈیلر کا لرزہ خیز قتل، ملزمان با آسانی فرار، شہر میں جزوی ہڑتال، مختلف سیاسی و سماجی، انجمن تاجران کا شہر کے مرکزی چوک پر احتجاجی مظاہرہ و دھرنا، کیے گھنٹے ٹریفک معطل، ایس ایس پی سانگھڑ کی متاثرین کے گھر آمد، ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی۔ ٹنڈوآدم سٹی تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر شاہ فیصل اسٹریٹ کے رہائشی ملا ارشاد چندریگر کے گھر میں تین نامعلوم مسلح افراد گھر میں داخل ہو کر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا اہل خانہ کوکمرے میں بند کردیا جبکہ ملا ارشاد کو کمر بند کی مدد سے باندھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا ملزمان نے چار موبائل اور 25 لاکھ ر وپے چھین کر مزاحمت کرنے پر فائر کر کے قتل کردیا جبکہ ملزمان جلد بازی میںاپنی پستول چھوڑ گئے، اطلاعات کے مطابق ملزمان نے 30 منٹ سے زائد کارروائی کی متوفی کے بھائی شعیب نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین مسلح افراد گھر میں داخل ہو کر اہلخانہ کو یرغمال بنایااور 25 لاکھ روپے نقدی ،چار موبائل بھی چھین لیے جبکہ مزاحمت پر بھائی کو فائر کر کے قتل کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے، واقع کی اطلاع سٹی پولیس کو دی گئی پولیس نے متوفی کی لاش کو تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال ٹنڈو آدم پوسٹ مارٹم کے لیے پہنچادیا بتایا جاتا ہے کہ متوفی سفینہ ( منشیات ) کا ٹنڈوآدم میں بڑا ڈیلر تھا، واقع کی خبر شہر میں پھیلتے ہی انجمن تاجران کے صدر اقبال بھٹی ، نوشاد شیخ، جماعت اسلامی کے مشتاق عادل، عبدالغفور انصاری، پاسبان ڈیمو کریٹک پارٹی کے ضلعی سربراہ سلطان خاصخیلی، میزان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے صدر عارف انصار، عامر پروانہ، کامران حسین، جماعت و دیگر مختلف سیاسی وسماجی سول سائٹی کی بڑی تعداد نے شہر کے مرکزی بازار بمبئی بازار، شاہی بازار، چھتری چوک، صرافہ بازار احتجاجاً بند کر کے شہر کے مرکزی محمدی چوک پر احتجاجی دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا، جس سے حیدرآباد ، ٹنڈوالہیار و دیگر شہروں کی جانب روانہ ہونے والا ٹریفک معطل ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماو¿ں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر متعدد بار آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ، سمیت قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو میڈیا کے ذریعے احتجاج کر کے شہر کی صورتحال کے متعلق آگاہ کرتے رہے ہیں انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے خاطر کواہ اقدامات نہیں کیے گئے، بروقت انتظامات کیے جاتے تو آج یہ واقع رونما نہ ہوتا دوسری جانب ایس ایس پی سانگھڑ عثمان غنی نے ٹنڈوآدم میں جائے وقوع کا معائنہ کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹنڈوآدم میں شہر کی امن و امان کے حوالے سے عملی طور پر اقدامات بروکار لائے جائیں گے اور جلد کی ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے علاوہ ازیں خبر فائل ہونے تک واقع کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔