تعلیم بدلو، دنیا بدلو

693

یہ دنیا بہت بگڑ چکی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بسنے والا انسان بگڑ چکا ہے۔ انسان اس لیے بگڑا ہے کہ اس کو بنانے والی مشین یعنی تعلیمی نظام بگڑ چکا ہے۔ تو جب تک اس مشین یعنی تعلیمی نظام کو فکس نہیں کیا جائے گا اس دنیا کی اصلاح ممکن نہیں ہے۔ ’’تعلیم بدلو دنیا بدلو‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک کی شکل میں ہمیں عملاً برپا کرنا ہوگا۔ تعلیمی انقلاب کے بغیر سیاسی انقلاب ممکن نہیں ہے اور سیاسی انقلاب کے بغیر تعمیر و اصلاح کا قیام ممکن نہیں۔ سرسید احمد خاں کا اصل مقصد مغربی نظام سیاست کو مسلمانوں میں مقبول عام بنانا تھا تاکہ وہ حکومت کی خدمت (نوکری) کے قابل ہو سکیں۔ لیکن مسلمانوں میں اس وقت جو رائج نظام تعلیم تھا اور جو علمی، فکری اور ذہنی فضا تھی اس میں مغربی نظام سیاست اور برطانوی غلامی قابل قبول نہیں ہو سکتی تھی۔ چنانچہ ایک طرف انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے ایک ہمہ گیر اور بہت وسیع تعلیمی نظام کی معیشت پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر منہدم کیا تو دوسری طرف سرسید احمد خاں کو مغربی نظام تعلیم کے فروغ اور قیام کی ذمے داری پر لگایا۔ یہ نیا نظام تعلیم جیسے جیسے مسلمانوں میں رائج ہوتا گیا اور نیا علمی، ذہنی، اور فکری ماحول پیدا ہوا، مغربی نظام سیاست، اور برطانیہ کے نو آبادیاتی نظام کی راہ کی تمام رکاوٹیں دور ہوتی چلی گئیں۔ سر سید احمد خاں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے پیش نظر بھی سیاسی تبدیلی تھی، وہ اسلامی سیاسی انقلاب کے داعی تھے۔ لیکن مسلمانوں میں اس وقت تک جو تعلیمی نظام رائج ہوکر جڑ پکڑ چکا تھا، اور جس کے نتیجے میں جو علمی، ذہنی، اور فکری فضا تھی اس میں اس انقلاب کو لانا ممکن نہیں تھا۔ سید ابواعلیٰ مودودیؒ نے تعلیم کی تبدیلی کے بغیر براہ راست سیاسی تبدیلی کی جدوجہد شروع کی۔ انہوں نے اس کے لیے قیام پاکستان کے بعد مغربی سیاسی نظام ’’جمہوریت‘‘ کا سہارا بھی لیا۔ لیکن جمہوریت جب بھی آتی ہے اپنے ساتھ وطنیت اور لادینیت کا پیکیج ساتھ لے کر آتی ہے۔ اسلامی سیاسی نظام کا پیکیج؛ نیابت (رسول اللہؐ کی)، امت (عالمگیریت) اور شریعت (عدل کا قیام) ہے۔ اور اس کے لیے علمی فضا موجود نہیں تھی۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے۔
یہاں کامیابی اور ناکامی کا تصور دنیاوی تناظر میں ہے اور اپنے ہدف کے حصول میں ہے۔ سید ابواعلی مودودیؒ ایک بہت بڑے داعی اسلام تھے وہ اس دور کے سب سے بڑے مفکر اسلام ہیں۔ جماعت اسلامی کی فکری بنیاد جس لٹریچر سے اٹھائی گئی تھی اس میں متحدہ ہندوستان میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اسلام کے لیے نظریاتی اورسیاسی انقلاب کی بات تھی۔ اور ایسا لگتا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کے علاوہ جو کوئی دوسرا نظریاتی گروہ ہے
وہ کمزور ہے یعنی منو واد اور کمیونزم سے منسلک گروہ۔ اور ان تینوں میں اسلام کی نظریاتی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ملک کی آئندہ سیاست جس طرح ہندو اور مسلم دونوں نے ڈیموکریسی، نیشنلزم اور سیکولرزم کے اصول کے تحت چلائی اس میں اسلام کے نظام کے امکانات معدوم ہوتے چلے گئے۔ تعلیم کو بدلنے کے لیے علماء ہی کو آگے آنا پڑے گا۔ تعلیم کو بدلے بغیر دل کی دنیا اور افکارکی دنیا نہیں بدل سکتی۔ اس دنیا اور انسانوں کا خالق، مالک اور ربّ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور بعد کی دنیا میں بھی۔ وہ اپنے بندوں کو اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت (دونوں) کے حسنات اور آگ کے عذاب سے بچنے کی دعا سکھاتا ہے۔ دنیا کے حسنات میں رزق حلال اور اچھی صحت ہے جب کہ آخرت کے حسنات میں جنت اور آب کوثر۔ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کی وہ دوزخ کے عذاب سے بچ جائے۔ چنانچہ ہمارے تعلیمی نظام کے مقاصدمیں یہی حسنات اور کامیابی ہونی چاہیے۔
ہمارے نظام تعلیم میں قرآن کو مدار کا درجہ حاصل ہونا چاہیے جو بدقسمتی سے دینی مدارس میں بھی حاصل نہیں ہے۔ علوم وحی کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ عمرانی اور سائنسی علوم میں قرآن کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے یعنی علوم وحی کی روشنی میں دنیا میں رائج آج کے تمام علوم کو سمجھا، اور فنون کو سیکھا جائے۔ اورا س کی ترجیحات بنائی جائے۔ اہمیت کے اعتبار سے علوم کی تقسیم کی جائے۔ ۱۔ فرض عین، ۲۔ فرض کفایہ، ۳۔ مستحب، ۴۔ مباح، ۵۔ مکروہ، اور ۶۔ حرام۔ موجودہ دور کی ’’جاہلیت‘‘ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ جاہلیت کو سمجھے بغیر اسلام کا موثر ابلاغ نہیں ہو سکتا ہے۔ اندھیرے کو اندھیرا سمجھنے والے ہی روشنی کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ پچھلے دو دہائیوں سے مغرب کے دبائو پر مسلم دنیا میں از سر نو تعلیم میںجو تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں وہ اس اصلاح شدہ نصاب کے خاتمے کے لیے ہے جس میں نو آبادیاتی دورکے بعد آزاد مسلم ممالک میں علماء نے جو تھوڑی بہت بہتر ترمیم کر لی تھیں۔ جہاں جہاں جس نظام تعلیم سے قائدانہ صلاحیت اور مردان حر پیدا ہونے کے معمولی امکانات بھی ہوئے وہاں اس نظام تعلیم کو ہر قسم کے دبائو سے ختم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے علماء کو اس حوالے سے بہت بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ مدارس کے نظام تعلیم میں بلاشبہ انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن یہ تبدیلی علماء از خود لے کر آئیں نہ کہ مغرب اور وہاں کے اداروں کے دبائو پر۔ حکومت اور ریاست پر باہر کا جبر ہے اور وہ اس تبدیلی کے لیے علماء پر زور ڈال رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک منفی تبدیلی ہے جس کی حقیقت غلامی ہے نہ کہ ریاست کا آزادانہ فیصلہ۔ علوم وحی کی مرکزیت کے ساتھ نیا تعلیم نظام برپا کیا جائے جس کے ذریعہ زندگی کے ہر شعبہ حیات میں اعلیٰ قیادت پیدا کی جا سکے۔ تعلیم کی دوئی کو خواہ وہ دینی اور دنیاوی ہو یاغریب اور امیر کی بنیاد پر ہو، ختم کیا جائے۔ ایک قوم، ایک انسان، ایک امت کا تصور جبھی آئے گا جب ایک نظام تعلیم ہو جس کے ذریعہ سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔