نوائے پریشاں

55

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ مَیں ہوں محرمِ رازِ دْرونِ میخانہ
کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیمِ سحَر
اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ