جامعہ کراچی میں انتظامی و اکیڈمک معاملات پر متعلقہ فورم نظر انداز

186

کراچی:(حماد حسین) جامعہ کراچی میں انتظامی و اکیڈمک معاملات پر متعلقہ فورم نظر انداز، قائم مقام وائس چانسلر نے مطلق العنانیت کا مظاہرہ کرتے ھوئے متعلقہ فورم سے منظوری کے بغیر اھم انتظامی و اکیڈمک فیصلے از خود کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے سیاسی دباؤ پر شعبہ جرمیات کے صدر شعبہ ڈاکٹر غلام محمد برفت کو صدر شعبہ سے ھٹاکر پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال جوکہ شعبہ نفسیات کی پروفیسر ہیں کو صدر شعبہ تعینات کردیا۔ شعبہ جرمیات میں سابق وائس چانسلر جامعہ سندھ ڈاکٹر فتح محمد برفت کی سابقہ اھلیہ ڈاکٹر ناعمہ سعید اور صدر شعبہ ڈاکٹر غلام محمد برفت کے درمیان شعبے کے طلباء کے نتائج میں ردوبدل اور شعبہ میں عارضی اساتذہ کی تعیناتی پر تنازعہ جاری تھا کہ اچانک سیاسی دباؤ پر قائم مقام وائس چانسلر نے اختیارات سے تجاوز کرتے ھوئے از خود کاروائی کی اور سنڈیکیٹ کو بھی بائی پاس کردیا۔ نئی تعینات ھونے والی ڈاکٹر فرح اقبال کا تعلق شعبہ نفسیات سے ھے جبکہ شعبہ جرمیات کا اصل تعلق شعبہ عمرانیات سے ھے اور شعبہ میں موجود مستقل اساتذہ کا بھی تعلق شعبہ عمرانیات سے ھی ھے۔ جامعہ کراچی کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ ھے کہ نہ صرف صدر شعبہ کو سنڈیکیٹ کی منظوری کے بغیر قائم مقام وائس چانسلر نے عہدے سے علیحدہ کردیا بلکہ متعلقہ شعبے کے علاؤہ کسی اور شعبے سے صدر شعبہ کو تعینات کردیا گیا۔

اس سے قبل بھی نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل اکیڈمک کونسل کے بجائے ڈینز کمیٹی کے ذریعے جامعہ کراچی میں تدریس کے لیے ہائی برڈ ماڈل متعارف کروادیا گیا جبکہ جامعہ کراچی میں تدریس سے فیصلے کرنے کا تمام اختیار اکیڈمک کونسل کے پاس ھے۔ جامعہ کراچی کے اساتذہ نے متعلقہ فورمز کو کے بجائے بالا بالا فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیا ھے اور اس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ ایسا لگ رھا ھے کہ جامعہ کراچی میں مطلق العنانیت قائم کی جارھی ھے کہ جس سے جامعہ کراچی کے انتظامی و تدریسی معاملات دور رس اثرات مرتب ھونگے۔