نیپرا فوری طور پر کے ای کی درخواست مسترد کرے,کراچی چیمبر

132

 کا نیپرا پر کے الیکٹرک کی درخواست فضول قرار دینے پر زور

جی آئی ڈی سی کو صارفین پر مسلط کرنے کی بجائے حکومت سبسڈی کا حصہ بنائے، ثاقب گڈلک

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب گڈ لک نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے بارے میں نیپرا کی عوامی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے نیپرا پر زور دیا ہے کہ وہ کے الیکٹرک کی درخواست کو فضول قرار دے اور اسے فوری طور پر مسترد کرے جبکہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کو صارفین پر عائد کرنے کے بجائے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی کا حصہ بنایا جائے تاکہ بجلی کے نرخ قابلِ برداشت رہیں۔
ایک بیان میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر نے نشاندہی کی کہ کے الیکٹرک نے اس بنیاد پر ٹیرف میں اضافے کی درخواست دی ہے کہ انہیں جی آئی ڈی سی ادا کرنا ہے لیکن یکمشت ادائیگی کا بوجھ صارفین پر مسلط کرنا ناقابل قبول ہے لہٰذا کے ای کی درخواست پر ہر گز غور نہیںکرنا چاہیے۔ انہوںنے استفسار کیا کہ اگر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پی) سے جی آئی ڈی سی وصول نہیں کیا جارہا تو پھر وہ (حکومت) اسے کے ای سے کیوں لے رہے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو پھر حکومت کو متعلقہ قوانین کی روشنی میں اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا۔
ثاقب گڈ لک نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں جی آئی ڈی سی ایکٹ کو دوبارہ جائز قرار دیا ہے جس میں جی آئی ڈی سی ایکٹ 2011 اور جی آئی ڈی سی آرڈیننس 2014 کے تحت سیکشن 8 کی دوسری شرط کی شق 2 کے تحت اگر صنعتی صارفین سے پہلے نہیں لیا جارہا تو وہ ان سے وصول نہیں کیا جائے گا لہٰذا وہ بجلی کے تمام صارفین سے بجلی نرخ کی شکل میں جی آئی ڈی سی کا مطالبہ کیسے کرسکتے ہیں؟
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ جب یہ خالصتاً کے ای کی غلطی ہے تو پرانی وصولی کو صارفین پر کیوں عائد کیا جارہاہے اور کے ای کو اس ضمن میں اُس وقت کچھ اقدامات عمل میں لاتے ہوئے اس کی وصولی فوری طور پر شروع کر دینا چاہیے تھی اور ممکنہ واجبات کی ادائیگیوںکے لیے رقم مختص کردی جاتی نہ کہ صارفین سے سابقہ واجبات کے نام پر یکمشت وصولیاں کی جائیں۔انہوں نے نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک یا کسی دوسرے ڈسکوز کی درخواست پر ٹیرف کے حوالے سے سفارشات حکومت کومناسب سرگرمیوں کے بعد پیش کی جاتی ہیں اور حکومت صارفین کی مدد کے لیے اپنی پالیسیوں کے مطابق سبسڈی کی شکل میں اس ٹیرف کا بوجھ خود برداشت کرتی ہے۔مثال کے طور پر اگر نیپرا نے نرخ 16 روپے طے کیا ہے اور حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ یہ بہت زیادہ ہے تو وہ 12 روپے کی شرح کے حساب سے اعلان کرتے ہیں لہٰذا سبسڈی کی شکل میں کے الیکٹرک اور واپڈا کو 4 روپے کا فرق دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری رائے ہے کہ اگر اُس وقت جی آئی ڈی سی کو بھی شامل کیا جاتا تو حکومت بھی اخراجات کے طور پر اس سے نمٹ چکی ہوتی اور صارفین کی استعداد و برداشت کے مطابق حکومت نے ٹیرف کا اعلان کیا ہوتا لہٰذا یکمشت ادائیگی کا کوئی سوال نہیں ہوتا کیونکہ یہ معاملہ اُسی وقت نمٹ چکا ہوتا۔چونکہ کے الیکٹرک نے ایسا نہیں کیا لہذا یہ ان کی غلطی ہے لیکن حکومت کو مدد کے لئے آگے آنا ہوگا اور اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ اگر آئی پی پیز کو جی آئی ڈسی کی ادائیگی نہ کرنے کی اجازت دے جا سکتی ہے تو ڈسکوز کو بھی اجازت دینی چاہیے اور کے ای کی غلطی کا بوجھ ہر گز صارفین پر نہیں ڈالنا چا