آپ کی ہمت کیسے ہوئی ایسے بات کرنے کی؟ سپریم کورٹ نیب پراسیکیوٹر پر برہم

235

سپریم کورٹ نے مبینہ کرپشن کیس میں نیب پراسیکیوٹر کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی عدالت سے ایسے بات کرنے کی؟

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران  اس وقت ماحول گرم ہوگیا جب نیب پراسیکیوٹر کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔محکمہ سیاحت سندھ سے88 کروڑ روپے کاٹھیکالے کر فرارہونےکاالزام کے کیس میں وکیل نے موقف اپنایا کہ  میرے موکل پر کام نہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا جارہا ہے، کام مکمل کرنے کی سی ڈی بھی  ہےجسےرکارڈکاحصہ نہیں بنایاجارہا۔

جسٹس منیب اختر نے نیب پراسیکیوٹر سے سوال کیا  کہ نیب نے سی ڈی دیکھی ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے غیرزمہ دارانہ رویہ اپنایا  جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کس انداز میں عدالت سے بات کررہے ہیں؟  آپ کےانویسٹی گیشن آفیسرسےکیوں،چیئرمین نیب کوبلاکرکیوں نا پوچھ لیں؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی عدالت سے ایسے بات کرنے کی؟ میں شرمندہ ہوں آپ جیسےوکیل سےایسےبات کرناپڑرہی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں عدالت سے ایسے بات کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔

وکیل ملزم نے استدعا کی کہ ملزمان کو عدالت سے  گرفتارنہ کریں، کراچی میں خود گرفتاری دیں گے۔ عدالت نے ملزمان کو اسلام آباد کے بجائے کراچی سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔