بلاول بھٹو کا سینیٹ الیکشن کے بعد وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اشارہ

194

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے، سینیٹ الیکشن میں بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ادارے غیر جانبدار کردار ادا کررہے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن میں امیدوار نامزد کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم کم ہیں لیکن ایوان بالا کے انتخابات میں مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، ہم چاہتے ہیں میثاق جمہوریت پر عمل ہو، جو سب کے لیے بہتر ہوگا۔ پارلیمنٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں قانون میں ترمیم لائی جا سکتی ہے، مجھے امید ہے کہ سینیٹ انتخابات کے بعد الیکٹرول ریفارمز پر قانون سازی کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ آپ دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں اور نہ ہی پارلیمانی طریقہ کار اپنائیں اور قانون میں ترمیم ہوجائے، آپ کبھی سپریم کورٹ اور کبھی الیکشن کمیشن کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں، ایسے ماحول میں حکومت کو ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ادارے غیر جانبدار کردار ادا کررہے ہیں اور ہمیں اداروں کے نیوٹرل کردار کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کے معاملے میں الیکشن کمیشن اور عدالت عظمی آئین کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے دیں گے، اگر ایسا ہوگا تو یہ میثاق جمہوریت کے مطابق ہوگا اور پاکستان کے لیے بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے حکومت کیخلاف جنگ جیت لی ، کوئی بھی الیکشن ہو حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے،   ڈسکہ ضمنی الیکشن میں ثابت ہو گیا عوام پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، حکومت برے طریقے سے ہاری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن چند صحافی پروپیگنڈا کررہے تھے کہ ضمنی انتخابات اور ایوان زیریں اور بالا سے استعفی دو ورنہ آپ جمہوریت پسند نہیں ہو۔ انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جیسے ہم آپ کو صحافت نہیں سیکھاتے، اس طرح ہمیں سیاست نہ سیکھائیں، سیاسی لڑائی سیاسی میدانوں میں کریں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان خطے میں افراط زر کی شرح میں سب سے آگے اور معاشی ترقی میں سب سے پیچھے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات کے عمل میں بہتری لینے سے متعلق اقدامات پر ضرور بات چیت ہونی چاہیے، اگر میثاق جمہوریت کی شق کو کسی دوسری شق میں تبدیل کرنا ہے تو یہ صرف جمہوری و پارلیمانی طریقے سے ہوگا، حکومت گیمز کے دوران گیمز کے قوانین تبدیل کررہی ہے تاکہ اپنا فائدہ ہو۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمارا مختصر المعیاد منصوبہ ہے کہ اس غیر جمہوری طریقے سے بننے والی حکومت کو ختم کرنا ہے اور طویل المعیاد منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بالا دستی کے لیے کام کرنا ہے۔