‘فضل الرحمن کے فرنٹ مین کیخلاف میں ریفرنس میں 40 گواہان شامل’

205

سپریم کورٹ نے مولانافضل الرحمان کےمبینہ فرنٹ مین موسیٰ خان کی درخواست ضمانت قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹ کی ٹائم لائن گزرنےکےبعددرخواست گزارضمانت کی درخواست کرسکتاہے۔

تفصیلات کے مطابق مولانافضل الرحمان کےمبینہ فرنٹ مین موسیٰ خان کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی تو وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ میرے موکل کو سیاسی انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے میرے موکل کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے، وکیل ملزم ریفرنس میں جس جائیدادکاذکرہےوہ میرے موکل کی والدہ کی ہے۔

پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ ریفرنس میں جس جائیدادکاذکرہےوہ پرائیویٹ پارٹی سے خریدی گئی، موسیٰ خان کےوالدین کےپاس یہ جائیدادخریدنےکےوسائل نہیں تھے۔

جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ ٹرائل کورٹ میں ریفرنس پر کارروائی کی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریفرنس میں 40 گواہان کو شامل کیا گیا ہے پشاور ہائیکورٹ نے6 ماہ میں ٹرائل کورٹ کوریفرنس پرسماعت مکمل کرنےکاحکم دےرکھاہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کی ٹائم لائن گزرنےکےبعددرخواست گزارضمانت کی درخواست کرسکتاہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مولانا فضل الرحمان کےمبینہ فرنٹ مین موسی ٰخان کی درخواست ضمانت پرنیب سے جواب مانگا تھا۔