کینیڈا نے بھی سنکیانگ میں چینی اقدامات کو نسل کشی قرار دے دیا

117
اوٹاوا کینیڈین ایوان نمایندگان کے باہر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر احتجاج کیا جا رہا ہے

اوٹاوا ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک؍ تجزیہ : مسعود ابدالی) کینیڈا کی پارلیمان نے چین میں ایغور مسلمانوں سے بدسلوکی اور نسل کشی کے خلاف متفقہ طور پر قرار داد منظور کرلی۔ کینیڈا میں حزب اختلاف کی قدامت پسند پارٹی نے پارلیمان میں یہ قرار داد پیش کی،جس حق میں 266 ووٹ آئے اور کسی بھی رکن نے مخالفت نہیں کی، تاہم وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور ان کے وزرا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کے ابتدائی مسودے میں عالمی اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر چین ایغورمسلمانوں سے بدسلوکی روکنے کی ضمانت نہیں دے تو 2022ء کے اولمپک مقابلے بیجنگ سے کہیں اور منتقل کردیے جائیں۔ بعدازاں وزیراعظم کی درخواست پر یہ شق حذف کردی گئی۔ اپوزیشن رہنما ایرن او ٹول نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10لاکھ سے زیادہ ایغور اور ترک نژاد مسلمان بیگار کیمپوں میں محصور ہیں۔ اس ضمن میں عینی شاہدین کے بیانات سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کینیڈا آزاد تجارت پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی ملک سے تعلقات میں اپنی اقدار کو فروخت نہیں کرسکتے۔ قرارداد کی منظوری سے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو پر چین کے خلاف کاروائی کے لیے دباؤ تو پڑے گا، لیکن حکومت اس قرار داد پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے، کیوں کہ قرارداد کے مسودے کو ایوان کے سامنے پیش کرنے سے پہلے مجلس قائمہ سے اس توثیق نہیں کرائی گئی۔ اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے چینی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے ایغور مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیاتھا۔ اس چند روز قبل امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے چینی کمیونسٹ پولٹ بیورو کے سینئر رکن یانگ جیچی کو مسلمانوں کی حالت زار، خاص طور سے خواتین کی عصمت دری اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں پر واشنگٹن کی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ دوسری طرف قوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے ایغوروں سے متعلق عالمی ردعمل کر بیجنگ سے دشمنی اور تراشا ہوا افسانہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں 25 ہزار مساجد ہیں اور 500 مسلمانوں کے لیے ایک عبادت گاہ موجود ہے۔ چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کے وفد کو سنکیانگ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔