میانمر میں احتجاج جاری، مزید امریکی پابندیاں، کاروبار زندگی مفلوج

54
میانمر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف شہری دھرنا دیے ہوئے ہیں‘ مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج سڑکوں پر موجود ہے

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے خلاف مظاہروں کا دائرہ بڑھنے لگا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر ینگون میں بیشتر شاپنگ مالز، سپر مارکیٹیں اور دکانیں بند کردی گئیں۔ اس کے علاوہ کارخانے، بینک، ریلوے اور بس سروس معطل ہونے سے کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا۔ اس سلسلے میں فوجی بغاوت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ کیا گیا،جس میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معمولی جھڑپیں ہوئیں اور دارالحکومت میں 150 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ فوجی رہنما جنرل من آن ہلائنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ فوج حالات کو احتیاط سے کنٹرول کر رہی ہے۔ دوسری جانب امریکا نے میانمر کے 2فوجی عہدے داروں پر پابندیوں کا اعلان کردیا۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ عوامی رائے کو دبانے اور ان پر تشدد کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔ ادھر جرمنی، فرانس، کینیڈا، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں میانمر میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی فوج سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائیاں فوری طور پر ترک کی جائیں۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے برسلز میں کہا کہ یورپی اتحاد خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔ اگر سفارت کاری ناکام رہی تو میانمر میں فوجی بغاوت میں ملوث جرنیلوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ میانمر کی فوج نے مظاہرین کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ احتجاج سے باز نہ آئے تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس بیان پر عالمی برادری نے سخت مذمت کی۔ میانمر میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے ٹام اینڈریوز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ انہیں فوجی حکومت کی طرف سے جاری انتباہ پر شدید تشویش ہے۔