ایغور مسلمانوں سے بدسلوکی نسل کشی ہے، کینیڈین پارلیمان

65

واشنگٹن (رپورٹ: مسعود ابدالی) ایغور مسلمانوں سے بدسلوکی، نسل کشی ہے، کینیڈاکی پارلیمان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جس میں بڑی صراحت سے کہا گیا ہے کہ ایغور اقلیت سے چینی حکومت کی بدسلوکی نسل کشی کے مترادف ہے۔ قرارداد کی منظوری سے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو پر چین کیخلاف تادیبی کارروائی کے لیے دباو¿ تو پڑیگا لیکن اس پر عملدرآمد حکومت کے لیے ضروری نہیں کہ قرارداد کے مسودے کو ایوان کے سامنے پیش کرنے سے پہلے مجلس قائمہ سے اسکی توثیق نہیں کرائی گئی۔ پارلیمانی اصطلاح میں اس قسم کی تحریکات کو Non-binding motions کہتے ہیں۔ تحریک، حزب اختلاف کی قدامت پسند پارٹی کی سے پیش کی گئی جس کے حق میں 266 ووٹ آئے۔ کسی بھی رکن نے مخالفت نہیں کی لیکن وزیراعظم ٹروڈو اور انکے وزرا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کے ابتدائی مسودے میں عالمی اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر چین ایغوروں سے حسن سلوک کی ضمانت نہیں دیتا تو 2022ءکے اولمپک مقابلے بیجنگ سے کہیں اور منتقل کردیے جائیں ،لیکن وزیراعظم کی درخواست پر یہ شق حذف کردی گئی۔ قائد حزب اختلاف اور قرارداد کے مجوز ایرن او ٹول (Erin O’Toole) نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 لاکھ سے زیادہ ایغور اور ترک نژاد چینی مسلمان بیگار کیمپوں میں ہیں۔ اس ضمن میں عینی شاہدین کے بیانات سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا آزاد تجارت پر یقین رکھتا ہے اور میں بلاروک ٹوک تجارت و لین دین پرفخر کرتا ہوں لیکن (منافع کے لیے) ہم اپنی اقدار کو فروخت نہیں کرسکتے۔یہ چین پر تجارتی پابندیاں عاید کرنے کی طرف مبہم سا اشارا تھا۔ دوہفتہ قبل ، فون پر اپنے چینی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی ایغور مسلم اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیاتھا۔ اس سے 2 روز پہلے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے چینی کمیونسٹ پولٹ بیورو (مجلس شوریٰ) کے سینئر رکن یانگ جیچی Yang Jericho کو ایغور مسلمانوں کی حالت زار، خاص طور سے خواتین کی عصمت دری اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں پر امریکا کی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔دوسری طرف آج قوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (HRC)سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے ایغوروں سے بدسلوکی کو مغرب اور چین مخالفوں کا تراشا ہوا افسانہ قراردیا۔ انکا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں 25 ہزار مساجد ہیں یعنی ہر 500 مسلمان کے لیے ایک عبادتگاہ۔ چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کے وفد کو سنکیانگ میں خوش آمدید کہا جائیگا، وہ جب چاہیں ایغور علاقوں کا دورہ کرسکتے ہیں۔