لیاقت علی جتوئی کا پی ٹی آئی سے راستے الگ کرنے کا اشارہ

17

کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی نے پی ٹی آئی سے راستے الگ کرنے کا عندیہ دے دیا، انہوں نے کہا کہ پارٹی کےلیے کام کرنے والے مرکزی رہنماو¿ں کومسلسل نظرانداز اور مایوس کیا گیا، وزیراعظم کوتحفظات پرمبنی خط لکھ دیا ہے، 26 فروری کومشاورتی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔ سا بق وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کےلیے کام کرنے والے مرکزی رہنماو¿ں کو مایوس کیا گیاہے، وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے جس میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، سندھ کے فیصلے گورنر ہاو¿س میں کیے جاتے ہیں، مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی سے راستے الگ ہوسکتے ہیں، کارکنان سے مشاورت کے لیے چھبیس فروری کو اجلاس طلب کرلیا ہے۔لیاقت جتوئی نے کہا کہ تین چار لوگ بیٹھ کر اپنے من پسند لوگوں کو سینیٹ الیکشن کے لیے ٹکٹیں دیں، سیف اللہ ابڑو اس قابل نہیں ہے کہ میں اس کا ذکر بھی کروں، لیکن یہ ٹکٹ 35 کروڑ روپے میں بکا ہے۔پی ٹی آئی کے ناراض رہنما نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو محض 6 ماہ پہلے پارٹی میں آئے تو ایسے شخص کو کس بنیاد پر ، کس میرٹ پر سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ جاری کیا گیا۔ دوسری جانب معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ لیاقت جتوئی صاحب نے سینیٹ کے ٹکٹ کے بارے ایک بیہودہ الزام لگایا۔ اب یا تو یہ یہ اپنے دعوے کا ثبوت دیں اور اگر نہ دے سکے تو پارٹی ان کے خلاف سخت ایکشن لے گی۔ سیف اللہ ابڑو ان پر ہتک عزت کا کیس کریں گے۔ جتوئی صاحب خود نیب زدہ ہیں اور وہ خواہ مخواہ جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار سیف اللہ ابڑو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیاقت جتوئی نے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔انہوں نے لیاقت جتوئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتوئی! اپنے بیہودہ الزام کو ثابت کرنا ہوگا۔خان بہادر! آپ نے کہا ہے کہ 35 کروڑ دے کر سینیٹ ٹکٹ لیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتنے دنوں سے آپ لوگ میرے خلاف لابنگ کررہے ہیں۔ آپ کو قانونی نوٹس بھجوا رہا ہوں ، اب ملاقات عدالت میں ہو گی۔ خان بہادر آپ کو اخلاقیات کا پتہ ہی نہیں ہے ، آپ نے جو الزامات لگائے عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔