ایف اے ٹی ایف میں امر یکا بھارت پاکستان کے خلاف؟۔

587

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس بیجنگ میں 23 فروری 2021ء کو شروع ہو گیا۔ امریکا اور بھارت سازش کے تحت پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے اور پاکستان گرے فہرست سے نکلنے کے لیے متحرک سفارتی ڈپلومیسی اپناتے ہوئے ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک سے رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ ترکی اور دیگر اسلامی ممالک پاکستان کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں لیکن بھارت کے کہنے پر امریکا نے سعودی عرب پر اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے جواب میں 21فروری کو عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان میں 10ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا اس سرمایہ کاری کا اعلان محمد بن سلمان نے 2019ء میں پاکستان کے دورے کے موقع کیا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے کارکردگی کا جائزہ پیش کیا ہے اور 24 فروری کو بیجنگ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
پاکستانی وفد مطمئن ہے کہ اس رپورٹ کی روشی میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے زیادہ تر احکامات پر عملدرآمدکر چکا ہے بلکہ حقیقت یہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے احکامات کے تحت بے قصور لوگوں کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے کالعدم تنظیموں پر کاروبار کرنے سے متعلق پابندیاں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مشکوک ترسیلات روکنے کے اقدمات کیے ہیں۔ پاکستان نظرثانی رپورٹ 8جنوری کو ایف اے ٹی ایف کو بھجوا چکا ہے خیال رہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جن میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن میں شامل ہیں، تنظیم کی بنیادی ذمے داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات ہیں۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے حسین عسکری نے 18 اکتوبر 2020ء کو فرانس سے رپورٹ دی تھی کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر فروری 2021ء تک خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کا صدر ایف اے ٹی ایف کی جانب منسوب کرتے ہوئے یہ کہنا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا یکسر غلط جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد تھا اس کے برعکس بھارتی میڈیا کے بار بار کے سوالات کے جواب میں صدر ایف اے ٹی ایف ژیانگ من لیو کا کہنا تھا کہ پاکستان فروری 2021ء کی ڈیڈ لائن تک گرے لسٹ ہی میں رہے گا لیکن اس کو بلیک لسٹ کرنے کی نہ کوئی تجویز ہے اور نہ ہی پاکستان کی کارکر دگی اس نوعیت کی ہے کہ اس کو کسی بھی طرح سے بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکے۔ صدر ایف اے ٹی ایف ژیانگ من لیو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کرچکا ہے اور اپنے اہداف کے 29 نکات جنہیں کم کر کے 27 کر دیا گیا تھا میں سے 22کو مکمل کرچکا ہے اور چھ پر کام تیزی سے جاری ہے اور پاکستان کا ایسا کوئی نکتہ نہیں جس پر پاکستان نے کام کا آغاز نہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ تھا پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں تاہم پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن بی بی سی اور چند یورپی میڈیا نے بار بار پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے بارے میں سوالات کیے جس کے بعد ژیانگ من لیو نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک میں ڈالا جاسکتا ہے ان کاکہنا تھا کہا کہ معاملات میں مزید بہتری کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا وقت دیا گیا ہے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا۔ پیرس کے ڈسٹرکٹ 16 میں واقع ایف اے ٹی ایف کا دفتر آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈولپمنٹ (او ای سی ڈی) کی عمارت کے اندر ہی قائم ہے۔ جہاں چند دن قبل مسلمانوں کو ہر طرح کی آزادی سے محروم کرنے کی ترمیم منظور کرتے ہوئے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایف اے ٹی ایف اس پر مکمل طور سے خاموش ہے۔ لیکن دنیا کے امیر اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کے اجلاس جی 20 میں بھی ایف اے ٹی ایف اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے اور بھارت جی 20 کے اجلاس میں ایک رکن اور پاکستان اِس گروپ کا رکن نہیں ہے جہاں ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر بھی بات ہوتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں رکن ممالک کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، یورپی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے بھی شرکت کر رہے ہیں۔ بھارت کے چند اہلکار بھی وہاںلابنگ کررہے ہیں انہوں نے اعتراض اُٹھایا ہے کہ پاکستان نے جماعت الدعوہٰ کے امیر حافظ سعید کو اپنے منجمد بینک اکاؤنٹ میں سے رقم استعمال کرنے کی اجازت دی۔
اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اکثر نکات پر مثبت پیش رفت کی ہے اور پاکستان کی رپورٹ کو اگر امریکا اور بھارت نے سیاسی نہیں بنایا تو اس صورت میں پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پاکستان کو اگر گرے لسٹ ہی میں برقرار رکھا جاتا ہے تو اِس سے پاکستان کامیاب ہو گا اور یہ بات ایف اے ٹی ایف کے لیے سوالیہ نشان بن جائے گی کہ اس کے فیصلے معاشی سے زیادہ سیاسی ہو تے ہیں ان پر امریکا کی بالادستی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت میں تیزی لانے کے لیے جہاں اصلاحات، ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے اور غیر ترقیاتی کاموں کو کم کرنے کی ضرورت ہے وہیں سستے قرضے بھی ملک کی گرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ گرے لسٹ میں رہنے سے ان کاموں میں کامیابی کی لسٹ چھوٹی ہی رہنے کا خدشہ ہے جو پاکستان کے لیے عسکری دباؤ بڑھا دے گا۔
پاکستانی حکام نے پروفیسر ظفر اقبال، یحییٰ عزیز، محمد اشرف اور عبدالسلام کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر دہشت گردی کی مالی امداد کرنے کے جرائم کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ اس کالعدم تنظیم کے سربراہ حافظ سعید اور بالترتیب 1985ء، 1990ء اور 1999ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے مولانا لکھوی زیرِ حراست ہیں۔ بھارت کے کہنے اور امریکا کے دباؤ کی وجہ سے ماضی میں بھی ان پر الزامات لگائے۔ یہ سلسلہ کب اور کہاں تک چلے اس جواب صرف ریاستِ پاکستان ہی دے سکتی ہے لیکن ریاست اپنے لوگوں کو بے گناہ ثابت کر نے میں ناکام ہے؟