سوچو اگر ایسا ہو تو کیا ہو

265

ریاض خیر آبادی کے ایک شعر سے آغاز کرتے ہیں:۔

جناب شیخ نے جب پی تو منہ بنا کے کہا
مزہ بھی تلخ ہے کچھ بو بھی خوشگوار نہیں

یہی رائے کبھی شیخ رشید کی عمران خان کے بارے میں تھی۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انسان کو اقتدار کی ایک دو تجلیاں دے کر دنیا میں جو تماشا تخلیق کیا ہے شیخ رشید اس تماشے کے بھانڈ ہیں۔ سیاست ہو، سیاسی جماعت ہو یا پھر ازدواجی زندگی وہ ون مین شو ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ سے شادی کررکھی ہے۔ لوگ چھڑوں کو مکان کرائے پر نہیں دیتے عمران خان نے شیخ رشید کو پورے ملک کے داخلی معاملات سونپ دیے ہیں۔ پچھلے دنوں سرکاری ملازمین پر آنسو گیس کے شیل جس بے رحمی سے استعمال کیے گئے اس پر شیخ رشید کا تبصرہ اس سے کہیں زیادہ بے حسی اور ظلم کا عکاس تھا۔ اس تبصرے نے انہیں ان لو گوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے زمانہ جن کی رعونت پر خاک ڈالتا گزر جاتا ہے۔ شیخ رشید نے احتجاج پر بیٹھے سرکاری ملازمین پر آنسو گیس کے شیل فائر کرنے پر کہا تھا ’’سرکاری ملامین کے احتجاج پر تھوڑی بہت آنسو گیس استعمال کرلی اور بھی ہے ہمارے پاس۔ آنسو گیس کے شیل کافی عرصے سے بیکار پڑے تھے تو سرکاری ملازمین پر تھوڑی ٹیسٹنگ کر لی‘‘۔
شیخ رشید جیسے عزت مآب وی وی آئی پی کی عزت وتکریم کی بڑی وجہ ریاستی، سماجی اور سیاسی اثر رسوخ ہے ورنہ ملک وقوم کو ان کے وجود سے کیا فا ئدہ؟ ان کی کیا ضرورت؟ یہ سرکاری ملامین، متوسط طبقہ اور محنت کش ہیں جو اس سماج کو چلارہے ہیں جو ملک وقوم کے لیے ناگزیر ہیں۔ کئی ماہ پہلے ایک تحریر پڑھی تھی۔ کچھ ترمیم کے ساتھ ملاحظہ فر مائیے:
تصور کیجیے ایک رات جب شیخ رشید اپنے عالی شان بیڈروم میں محو خواب تھے انہیں خبر ہی نہ ہوئی کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غریب کش حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر کے محنت کشوں نے ہڑتال کردی ہے۔ انہوں نے اٹھ کر روشنی کا سوئچ آن کیا لیکن روشنی نہ ہوئی۔ اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے پنکھا اور بجلی کی دیگر چیزیں آن کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ بھی اسٹارٹ نہ ہوا۔ سمجھے کہ شاید بجلی چلی گئی ہے۔ باتھ روم میں گئے تو نلکوں میں پانی نہیں تھا۔ منہ ہاتھ دھوئے بغیر آنکھیں مچ مچاتے ہوئے ناشتے کی میز کی طرف بڑھے تو میز خالی۔ غصے سے کھولتے ہوئے گھریلو ملازم کو آواز دی تو جواب نہیں آیا۔ کچھ دیر انتظار کرکے سرونٹ کواٹرز کی طرف گئے تو وہاں کوئی ملازم نہیں۔ سرونٹ کواٹرز خالی پڑے تھے۔ سارے ملازم کہاں چلے گئے، کہاں مرگئے۔ یہ سوچتے جھنجھلاتے ہوئے انہوں نے جنریٹر آن کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ان سے آن نہیں ہوا۔ ان کے بھاری بھرکم وجود سے جھک کر ایسے کام کرنا ممکن نہیں تھا۔
بیزاری کے عالم میں وہ لائونج میں صوفے پر آکر بیٹھ گئے۔ عادتاً ہاتھ اسمارٹ فون کی طرف بڑھا لیکن یہ کیا اس میں تو سگنل ہی نہیں آرہے۔ انٹر نیٹ کنکشن بھی آف تھا۔ وہ حیران پریشان گھر سے نکلے تو شب خوابی کا لباس پہنے ایک پڑوسی سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے بتایا کہ پورے ملک کے سرکاری ملازمین اور محنت کش ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ واپڈا، ریلوے، ائر لا ئنز، ہوائی اڈے، بندر گاہیں، ٹیلی کمیونی کیشن، میونسپلٹی، ڈاکخانے، آئل ریفا ئنریاں، میڈیا انڈسٹری، سرکاری اور پرائیوٹ دفاتر اور کارخانوں کے مزدور سب ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں۔ اساتذہ نے اسکولوں میں پڑھانے اور اسپتالوں کے جونیئر عملے نے ایمرجنسی کے سوا کیس دیکھنے سے انکار کردیا ہے۔ اسی اثنا میں ان کے غدودان معدہ میں ہلکی ہلکی خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ انہوں نے پڑوسی سے ایک بالٹی پانی کی درخواست کی لیکن وہ ان کی مدد کرنے سے قاصر رہا۔ کسی نہ کسی طرح اس مشکل سے نکل کر غیر استری شدہ کپڑے پہن کر گاڑی لے کر خود ہی ڈرائیو کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہ سڑکوں پر نکل گئے۔
سڑکوں پر عجیب صورتحال کا سامنا تھا۔ ٹریفک بہت کم تھی۔ ذاتی ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز، کنڈیکٹرز اور گریس آئل چیک کرنے والے چھوٹوں نے بھی ہڑتال کررکھی تھی۔ سڑکوں پر افراتفری کا عالم تھا۔ ٹریفک سگنلز بند پڑے تھے۔ ٹریفک پولیس کا دور دور پتا نہیں تھا۔ سڑکوں پر کوڑا اڑتا پھر رہا تھا۔ کچرے کے ڈھیر جگہ جگہ جمع ہوتے جارہے تھے۔ کئی جگہوں پر ابھی سے گندہ پانی جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ حیران پریشان وہ سرکاری دفاتر کی طرف جا نکلے۔ سرکاری دفاتر کھلے تھے۔ اعلیٰ افسران بیٹھے تھے مگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے۔ کہیں کام نہیں ہورہا تھا کیونکہ تمام کلرک، چھوٹے افسران اور ملازمین دفاتر سے غائب تھے۔ سرکاری مراسلے ٹائپ کرنے کے لیے اسٹینو گرافر بھی موجود نہیں تھے۔ واپڈا، ریلوے ہیڈ کواٹرز، ائر پورٹس، سول سیکرٹریٹ سب جگہ یہی صورتحال تھی۔ پورے شہر میں ہر شخص پر یشان تھا۔ مزدوروں کی ہڑتال کی وجہ سے فیکٹریاں اور کارخانے بند پڑے تھے۔ تاجروں کا مال بندرگاہوں میں پھنسا ہوا تھا۔ فلائٹس بند ہونے سے بزنس ٹرپ پر جانے والے، کانفرنسوں میں مدعو شرکا اور دیگر اہم کاموں سے بیرون ملک جانے والے ائر پورٹ ٹر منل پر پریشان اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔ پائلٹ تو موجود تھے لیکن جہازوں میں فیول ڈالنے والے، سامان لوڈ کرنے والے، مینٹی ننس چیک کرنے اور دیگر چھوٹے موٹے کام انجام دینے والے سب غائب تھے۔
میڈیا گروپ کے مالکان بھی پریشان تھے۔ سرکاری و نجی ملازمین اور دیگر عملے کی اس بدمعاشی کی نیوز الرٹ جاری کرنے سے بھی وہ قاصر تھے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے سارے ورکرز ہڑتال پر تھے۔ دفتروں کے باہر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ ایک نامی گرامی بلڈر سائٹ پر پہنچا تو سارا کام رکا ہوا تھا۔ ابتدا میں اس نے مزدوروں سے سخت لہجے میں کام پر آنے کا کہا تو وہ ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے۔ اس نے دوگنی تین گنا اجرت پر کام کرنے کی پیش کش کی لیکن کوئی مزدور ٹس سے مس نہیں ہوا۔ کمشنر صاحب، سیکرٹری داخلہ، وزراء، پولیس اور خفیہ محکموں کے افسران آفس چھوڑ کر راہداریوں میں کھڑے تھے۔ بجلی نہ ہونے، ائر کنڈیشنرز بند ہونے کی وجہ سے آفس تندور بنے ہوئے تھے۔ ایسے میں کچھ رپورٹرز گھومتے گھامتے کمشنر صاحب تک جا پہنچے۔ کمشنر صاحب ان سے کہتے ہیں ’’حکومت تمام ملازمین اور دیگر اسٹاف کو کام پر واپس لانے کی پوری کوشش کررہی ہے لیکن یہ لوگ کام پر آنا تو ایک طرف حکومت سے بات کرے پر تیار نہیں‘‘۔
ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد شیخ صاحب لوٹتے ہوئے سوچتے ہیں گھر کچھ پکا پکایا کھانا لے چلوں تاکہ بھو کا مرنے سے تو بچ سکوں۔ وہ مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کارخ کرتے ہیں لیکن سب بند۔ شاپنگ مال، بازار اور چھوٹی موٹی دکانیں بھی بند۔ اسی پریشانی میں ان پر انکشاف ہوتا ہے کہ گاڑی میں پٹرول بھی ختم ہونے والا ہے۔ قریب ہی انہیں ایک پٹرول پمپ نظر آیا۔ وہاں پہنچے تو دیکھتے ہیں مالک اکیلا بیٹھا ہے۔ پٹرول ٹینک میں پٹرول تو ہے لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی میں ڈالا نہیں جاسکتا۔ پھر ڈالے بھی کون۔ عملہ سارا غائب۔ خجل خوار ہوتے ہوتے شیخ صاحب کو بھوک بھی شدت سے لگنے لگی۔ لیکن کہاں جائیں کیا کریں۔ ان کی نظر ایک مکئی کے بھٹے بیچنے والے پر پڑی جو بڑی تیزی سے چلا جارہا تھا۔ شیخ صاحب نے اس سے ایک بھٹا دینے کا کہا لیکن اس نے بدتمیزی سے جھڑکتے ہوئے انکار کردیا۔ شیخ صاحب نے غصے سے سوچا وہ آنسو گیس کے شیل جو کافی عرصے سے بیکار پڑے ہیں سارے کے سارے اس پر ٹیسٹ کرڈالیں لیکن شیل فائرکرنے کے لیے کوئی پولیس والا موجود نہیں تھا۔ وہ غصے میں ایک پولیس گاڑی کی طرف مڑے۔ اس میںسے آنسو گیس گن نکالی۔ شیل فائر کیا۔ ناتجربہ کاری کی وجہ سے فائر کیا ہوا شیل خود ان کے قدموں میں آگرا۔ ناقبل برداشت تکلیف سے وہ بلبلا اٹھے اور تکلیف سے کانپتے بے ہوش ہوکر سڑک پر بہتے پانی میں جا گرے۔