جیو نیوز کے دفتر پر حملہ اور حکومت

225

حکومت اور پولیس کی نااہلی نہیں تو اسے اور کیا کہا جائے گا کہ سیکڑوں افراد پر مشتمل ٹولہ پہنچتا ہے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ عملے کو زدوکوب کرکے دفاتر میں گھس جاتا ہے۔ جیو نیوز کراچی کے بیورو چیف فہیم صدیقی کا کہنا ہے یہ افراد چند روز قبل ایک ٹاک شو میں کی جانے والی گفتگو پر احتجاج کررہے تھے۔ حالانکہ یہ گفتگو جس تناظر میں کی جارہی تھی اس کا وہ حصہ مشتعل افراد نے ایڈیٹ کرکے صرف اپنی مرضی کے حصے کو فوکس کرکے ہنگامہ کھڑا کیا۔ فہیم صدیقی کا کہنا تھا کہ مشتعل افراد تقریباً تین گھنٹے تک جیو نیوز کے دفاتر میں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کے بارے میں پولیس کو مطلع کر دیا گیا تھا تاکہ وہ ضروری حفاظتی انتظامات کرے لیکن احتجاجیوں کے شور شرابے اور دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے باوجود پولیس موقع پر نہیں پہنچی۔ بتایا کہ جیو نیوز کی انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی اہلکار نے اس دہشت گردی کی کارروائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ فہیم صدیقی نے بتایا کہ جب حملہ آور افراد فرار ہو رہے تھے تو پولیس پہنچی اور 18 افراد کو حراست میں لیا جن میں سے پانچ جیو نیوز کے کارکن تھے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے اصل سرغنہ مشتاق سرکی سمیت کسی کو بھی نہیں پکڑا جا سکا۔
جیو جنگ اور دیگر میڈیا گروپوں پر حملوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اگست 2016 میں بھی ایک لسانی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف چینلوں پر منظم حملے کیے تھے۔ جیو نیوز پر تازہ کارروائی بھی ایک لسانی گروپ کی طرف سے تھی۔ اس گروپ میں اس دن میڈیا کے دفاتر کو نشانہ بنایا جب دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔ سندھی زبان بولنے والے افراد کے اس ہجوم نے ایسا کرکے شاید اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ بات درست تسلیم کر دی جائے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق ایسے تمام گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جو لسانی بنیادوں پر ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ صوبائی حکومت خود ایک طویل عرصے سے ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگ پریشان ہوں اور اس کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ لیکن شاید کراچی کے باشعور شہری شدید غصے کے باوجود اپنے شہر کا امن خراب نہیں کرنا چاہتے کیونکہ انہیں پتا ہے ایسا کرنے سے ان کے اپنے شہر کی بدنامی ہوگی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جیو نیوز پر حملہ کرانے میں ملوث مشتاق سرکی نامی شخص دراصل پہلے ہی کئی مقدمات میں ملوث ہے مگر پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی طرف سے اس کے خلاف سخت کاروائی نہ کیے جانے کی وجہ سے اس کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں اور وہ اب شر پسند گروپ تشکیل دے چکا ہے حکومت کو چاہیے اس جیسے تمام غنڈہ عناصر سے سختی سے نبٹے۔ کمزور قوانین کی وجہ یا پولیس کی طرف مقدمات میں خامیاں چھوڑنے کی وجہ سے اگر مقدمات میں چار ملزمان کی ضمانت ہوتی ہے تو بھی تب انہیں مینٹیننس پبلک ایکٹ (ایم پی او) کے دوبارہ قید کر دیا جانا چاہیے۔
دنیا بھر میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی بڑی اہمیت ہیں وہاں ان کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن وطن عزیز میں نہ تو اب میڈیا کے دفاتر کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نہ ہی صحافیوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص انتظامات و اقدامات کیے جاتے ہیں ہوتا یہ ہے کہ کسی بھی واقعے کے بعد چند روز تک صحافیوں اور ان کے دفاتر پر خصوصی فورس تعینات کردی جاتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ خاموشی سے ہٹادی جاتی ہے۔ حالاں کہ میڈیا اور میڈیا کے نمائندوں کا مسلسل ہی تحفظ کیا جانا چاہیے اس کے لیے ناخوشگوار واقعات اور حالات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تو مجرمانہ ذہنیت کے افراد صحافیوں کی صف میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ وہ کسی طرح پریس کلبوں کی رکنیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یقینا مجرمانہ ذہنیت کے افراد اپنی شاطر دماغی سے پریس کلب وغیرہ کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں گے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافی اور دیگر معزز پیشوں سے وابستہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے درمیان موجود شرپسند عناصر کو نکال باہر کرنے کے لیے اراکین کی چھان بین کریں تاکہ وہ اور ان کا پیشہ بدنام ہونے سے بچ سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ کراچی پریس کلب نے جیو نیوز پر ہونے والی کارروائی کے بعد مشتاق سرکی کی رکنیت فوری معطل کردی۔ توقع ہے کہ مزید کارروائی کے بعد مذکورہ شخص کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی جبکہ اسے رکن بنانے کے لیے تجویز اور تائید کرنے والے اراکین سے بھی باز پرس کی جائے گی، ایسا کرنا پریس کلب کے وقار کو بحال رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، اسی میں صحافیوں خصوصاً پریس کلب سے وابستہ اراکین کی عزت و احترام کی ضمانت بھی ہوگی۔