جب انسانی زندگی پھر لوٹ آئی

142

ایک طرف یہ رپورٹیں آرہی ہیں کہ دنیا کا کوئی خطہ کورونا وبا سے محفوظ نہیں اور اس وقت بھی کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ نو لاکھ سے متجاوز ہے تو دوسری طرف وفاقی کابینہ نے یکم مارچ سے کورونا کے خطرات کم ہونے کے باعث معاشی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کا یہ فیصلہ کورونا کے عہد کے تمام ہوجانے کا پتا دیتا ہے مگر خطرات کے کم ہونے کا مطلب خطرے کا خاتمہ نہیں۔ کورونا ابھی بھی دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے۔ ان ملکوں میں امریکا بھارت اور برطانیہ جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ اس وقت امریکا کورونا متاثرین اور ہلاکتوں میں پہلے نمبر پر ہے اور اس فہرست میں دوسرا نمبر بھارت کا ہے۔ نومبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی وبائی بیماری نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور یوں کرۂ ارض پر خوف و دہشت کی ایک چادر تن گئی۔ ایک ملک کی حدود سے دوسرے میں داخل ہونے والا وائرس سات براعظموں تک پھیلتا چلا گیا۔ سائنس دانوں کے پاس اس بیماری کی کوئی ہسٹری موجود ہی نہیں تھی اس لیے بیماری سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے میں شدید مشکلات درپیش آرہی تھیں مگر سائنس دانوں نے جلد ہی یہ نتیجہ اخذکیا کہ چند حفاظتی تدابیر اختیارکر کے اس بیماری کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی ابتدائی تحقیق کے تحت دنیا میں یہ حقیقت تسلیم کی جانے لگی کہ سماجی فاصلہ اور صفائی ستھرائی اپنا کر اس بیماری کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
انسانوں کی بنی بنائی عادات اور رسوم ورواج کو آسانی سے حکمناموں اور فرمانوں کے ذریعے بدلنا آسان نہ تھا۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور باہمی میل جول اور ربط وتعلق ہی میں اس کی زندگی ہے۔ اس لیے رضاکارانہ طور پر سماجی فاصلہ اختیار کرنا انسانوںکے بس میں نہیں تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب حکومتوں کو آگے آکر لاک ڈائون اور سماجی فاصلے پر ریاستی طاقت سے عملدرآمد کرانا پڑا۔ لاک ڈائون کے باعث دنیا کے پررونق مقامات ویران ہو گئے اور روشن کاروباری اور تفریحی مراکز انسانوں کی دید کو ترسنے لگے۔ انسانی زندگی کا لازمی حصہ قرار پانے والی سماجی تقریبات پر پابندی لگ گئی۔ تعلیم جدید انسان کی بنیادی ضرورت بن کر رہ گئی ہے اور اب تعلیم کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ کورونا نام کی وبا کی ایک زد تعلیم کے شعبے پر پڑی اور حکومتوں کو انسانوں کو بچانے کے لیے تعلیمی اداروں کو بھی بند کرنا پڑا۔ کارخانے، کاروباری مراکز اور بازار سب بند ہوگئے۔ غیر ملکوں کی پروازیں رک گئیں۔ ٹریفک کا پہیہ جام ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں معاشی بدحالی کا ایک خوفناک دیو دنیا بھر کی معیشتوں کے دروازے پر دستک دینے لگا۔ قریب تھا کہ دنیا کا سارا معاشی نظام ہی دھڑام سے زمین پر آگرے مگر یہ نوبت نہ آئی اور زندگی کا پہیہ رینگ رینگ کر آگے بڑھتا رہا۔ کاروبار حیات کو اسپیڈ بریکر لگانے کی حکمت عملی لاک ڈائون قرار پائی اور یہ خدشات موجود تھے کہ جتنے لوگ کورونا بیماری سے جان سے گزر جائیں گے اس سے کہیں زیادہ لوگ کورونا سے بچنے کے لیے اپنائی گئی پالیسی میں بھوک اور افلاس کی نذر ہوں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ انسانیت دوہرے عذاب کا شکار ہونے سے بچ گئی۔
کورونا کی عالمگیر کی لہر چلی تو پاکستان پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار تھا۔ اس کی معیشت بیرونی قرضوں کے باعث لڑکھڑا رہی تھی اور عالمی معاشی اداروں کے تیور بھی بگڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں کورونا کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے بہت مشکل تھا۔ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ حکومت مکمل لاک ڈائون کرے مگر حکومت نے مرحلہ وار لاک ڈائون کا راستہ اختیار کیا جس سے عام آدمی معاشی مشکلات کا شکار ہونے سے بچ گیا اور ملکی معاشی مشکلات میں ایک حد تک ہی اضافہ ہوا۔ اب حالات میں ایک تبدیلی آرہی ہے۔ کورونا کی ویکسین تیار ہو چکی ہے اور ویکسین بنانے والے اسے دوسرے ملکوں کو سپلائی کرنے لگے ہیں۔ کروڑوں کی آبادی میں ہر شخص تک ویکسین پہنچانا ایک اور مشکل مرحلہ ہے۔ پہلے مرحلے میں کورونا کے خلاف صف اول کے مجاہدوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے کیونکہ یہ وہ پہلا حصار ہے جس پر کورونا کے غارت گرنے تابڑ توڑ حملے کیے اور اسی حصار نے کورونا کا پہلا وار اپنی جان پر سہا اور اس کے نتیجے میں صحت کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد جاں سے گزر گئے۔ پاکستان میں بھی بہترین معالج اور صحت سے وابستہ کارکن اس وبا کی نذر ہوگئے۔ ایک سال کا عرصہ کورونا سے بچائو اور لڑنے بھڑنے کی نذر ہوگیا۔ اس عرصے میں ملک کی تمام سرگرمیاں کورونا سینٹرک رہیں۔ کورونا کا خطرہ کم ہوا تو حکومت نے مرحلہ وار طور پر کاروبار حیات کوبحال کرنا شروع کیا۔ تعلیمی ادارے کھول دیے گئے۔ بازاروں کی رونقیں بحال ہوگئیں۔ ماسک کا استعمال پہلے سے بہت کم ہو گیا ہے مگر پھر بھی جاری ہے۔ اس لیے اب حکومت نے حالات کے باعث پراعتماد ہو کر یکم مارچ سے معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ ہے۔ یہ سال بھر کی بندشوں اور رکاوٹوں کے بعد ملکی معیشت کی گاڑی کے ہموار راستے پر گامزن ہونے کا آغاز ہے۔ ہماری پراعتمادی اپنی جگہ مگر یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ خطرہ کہیں گیا نہیں چھوٹی سی دنیا میں اب بھی دندناتا پھر رہا ہے۔