فوج پھر زیر بحث آگئی!!!۔

309

ایک مرتبہ پھر سیاست میں فوج کا کردار زیر بحث آنے لگا ہے اور اس مرتبہ بھی اس کا سہرا فوج ہی کے ترجمان کے سر ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے پھر بیان داغ دیا ان کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔ اس پر مزید قیاس آرائی نہ کی جائے۔ اگر آئی ایس پی آر کے ترجمان اس بات کے سوا ہر بات کرلیتے جو انہوں نے کی تھی تو یہ ایک شاندار پریس بریفنگ قرار پاتی۔ اس بات کا تو کوئی یقینی علم سوائے ترجمان کے کسی کے پاس نہیں کہ یہ پریس بریفنگ صرف یہی تردید کرنے کے لیے کی گئی تھی یا اسے اتفاق قرار دیا جائے کہ یہ بھی مقطع میں آن پڑنے والی بات نکل آئی۔ بہرحال اس بریفنگ میں پاک فوج کے بہت سے کارناموں، بڑی کامیابیوں اور قربانیوں کا ذکر ہے۔ عوام کی جانب سے بھرپور تعاون کا ذکر ہے۔ سب سے بڑی بات ٹیررازم سے ٹورازم کے خطرناک اور کٹھن سفر کا ذکر ہے۔ اس میں اگرچہ عوام نے فوج سے بھی زیادہ تکلیفیں اٹھائیں لیکن یہ بحیثیت مجموعی قومی کامیابی ہے۔ لیکن ترجمان کے محض ایک جملے کے نتیجے میں اخبارات میں خبر اس شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوئی کہ آئی ایس آئی چیف تبدیل نہیں ہوا ہے یا قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ پوری بریفنگ ایک طرف اور یہ معاملہ ایک طرف۔ اب اس کے نتیجے میں فوج مخالف سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر فوج کو نشانہ بنانے والی سیاسی جماعتیں، فوج کے پیچھے چھپنے والی سیاسی جماعتیں سب کی سب کوئی نہ کوئی تبصرہ کریں گی۔ اگر ضرورت یہی تھی کہ سب فوج کے بارے میں بات کریں تو یہ ایک کامیاب کریں۔ بریفنگ تھی لیکن ظاہر ہے فوج اپنے آپ کو بیان بازیوں کے تیروں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے اور اس کی سب سے مضبوط ڈھال خاموشی ہے۔ جتنا بولا جائے گا اتنا ہی سنا جائے گا۔ یہ درست ہے کہ فوج کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے بھی لوگ احتیاط کرتے ہیں لیکن کیا ضرورت ہے کہ بار بار ایسے بیانات جاری کیے جائیں کہ فوج خود موضوع گفتگو بن جائے۔ ویسے یہ بھی کوئی بات ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی رپورٹس پر قیاس آرائی نہ کی جائے۔ اگر یہ خبر غلط ہے تو خود ہی دم توڑ جائے گی۔ اور اگر درست ہے تو چند ہفتوں میں تبدیلی ہوجائے گی۔ اور ڈی جی آئی ایس آئی یا کسی کی ذمے داری تبدیل کرنا فوج کا حق ہے اس پر بھی کوئی تبصرہ کرنا غیر ضروری ہے۔ البتہ فوج خود کوئی بیان جاری کرکے یہ بتائے کہ مذکورہ تبدیلی کا سبب کیا ہے تو پھر اس پر بات اور تبصرے ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں، حکومت، سینیٹ، صدر، وزیراعظم اور اپوزیشن کے رہنمائوں کے بارے میں بھی تو صبح شام قیاس آرائیاں ہوتی رہتی ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اتنی بالغ نظری نہیں ہے کہ وہ ایسے مواقع پر کوئی انٹرپولیٹیکل پارٹیز پبلک ریلیشنز آئی پی پی پی آر کا محکمہ بنا کر کسی کو ترجمان مقرر کریں اور جو وہ ترجمان کہے تمام سیاسی جماعتیں اسے تسلیم کریں۔ لیکن یہ بہت خراب مثال ہوگی۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں اور فوج کا آمنا سامنا ہوگا۔ یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قیاس آرائی اگر ایک دو جگہ بھی گئی تو کیا قیامت آگئی۔ لیکن اب جو ہورہا ہے وہ تو کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔ بہرحال پاک فوج کے ترجمان نے آپریشن ردالفساد میں جن کامیابیوں کا ذکر کیا ہے ان پر تو انہیں مبارکباد دی جانی چاہیے لیکن اس آپریشن سے عوام کا جو نقصان ہوا ہے اور جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں ان کی اصلاح بھی کرلی جائے تو عوام میں اعتماد پیدا ہوگا۔ جہاں تک 23 مارچ شاندار طریقے سے منانے کی بات ہے تو یہ ہر مرتبہ شاندار طریقے سے منایا جانا چاہیے اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور طریقے سے شامل کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ 23 مارچ 1940ء کی قرارداد کی یاد دلاتی ہے اور اس موقع پر سارا کام صرف اور صرف سیاسی جماعتوں نے کیا تھا۔ خرابی یہیں سے آتی ہے کہ تمام اچھائیوں کا سہرا ایک جانب اور تمام خرابیوں کا ملبہ دوسرے پر ڈالا جائے۔ جب ایسا ہوگا تو دوسری طرف سے بھی کچھ غلط ہوگا۔ معاملات تب ہی درست ہوں گے۔ جب ہر چیز ہر ادارہ ہر اکائی اپنے اپنے دائرے میں رہے گی۔ کائنات کا نظام اسی لیے چل رہا ہے کہ خدا نے جو کام جس کے ذمے دے دیا ہے وہ اسی میں مصروف ہے اور جس دن وہ خدا کے حکم سے اِدھر اُدھر ہوجائیں گے تو قیامت برپا ہوگی۔ تھوڑی سی طاقت پر اگر کوئی قیامت اٹھانے والے کام کرے تو قیامت ہی ہوگی۔