الیکشن کمیشن نے این اے75پر دوبارہ انتخابات کا عندیہ دیدیا

130

اسلام آباد (صباح نیوز)الیکشن کمیشن نے این اے75پر دوبارہ انتخابات کا عندیہ دیدیا‘ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ اگر این اے75 ڈسکہ کا نتیجہ ٹھیک ہوا تو جاری کردیا جائے گا اور اگر ٹھیک نہ ہوا تو ری پول کراسکتے ہیں‘دستاویزات جمع کرانے کیلیے ن لیگ کو پورا موقع دیا جائے گا‘ جبکہ حلقے کے ریٹرننگ افسر نے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 50، 47، 9 اور140 کے نتائج میںکوئی فرق نہیں آیا‘3 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تاخیر سے واٹس ایپ پر ملے اور کچھ پریزائیڈنگ افسران کا رزلٹ صبح6 بجے اور کچھ کا صبح 7 بجے ملا۔ الیکشن کمیشن نے آج (بدھ) تک پاکستان تحریک انصاف سے ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے‘ن لیگ نے پورے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب کر انے کا مطالبہ کردیا جبکہ الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت کل (جمعرات) تک ملتوی کردی ہے۔ منگل کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ ن لیگ کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار اور تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور دونوں پارٹیوں کے رہنما بھی الیکشن کمیشن میںپیش ہوئے۔ دوران سماعت حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا اور انہوں نے یہ بیان دیا کہ صبح 3 بجکر 37منٹ تک 337 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں موصول ہوچکے تھے اور جن 20 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج نہیں ملے اور ان پولنگ اسٹیشنوں میں سے بھی4 کے نتائج ان نتائج کے ساتھ میچ کر گئے جو پولنگ ایجنٹس کو دیے گئے تھے۔ (ن) لیگی امیدوار کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ چند پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرا کرپورے حلقے کو کلیئر نہیں کیا جاسکتا، مخصوص جگہوں پر فائرنگ کرکے ووٹرز کو باہر نکلنے سے روکا گیا۔ ریٹرننگ آفیسر نے بتایا کہ کچھ پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج پر انگوٹھوں کے نشانات نہیں ہیں۔ جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے آراو سے استفسار کیا کہ تاخیر سے پہنچنے والے پریزائیڈنگ افسر سے پوچھ گچھ کی ؟اس پر ریٹرننگ آفیسرنے کہاکہ تمام20 پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائیڈنگ افسران سے پوچھ گچھ کی تھی‘ کسی نے کہا گاڑی خراب، کسی نے کہا موسم خراب تھا‘ 20 پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائیڈنگ افسران کے بیان ریکارڈ کرلیے۔ جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی نے آر او سے استفسار کیا کہ کیا موبائل کمپنیز سے چیک کرایا کہ 20 پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن کیا ہے؟ اس پر ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ یہ تو اب بھی چیک کرایا جاسکتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر آپ کے ساتھ اس وقت کیا ہوا تھا، فون پر آپ گھبرائے ہوئے تھے،اس پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ آر او دفتر کے باہر ہجوم بہت تھا‘ لوگوں کے رش کی وجہ سے تصادم کا خطرہ تھا‘ انتظامیہ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔