اسلام آباد ہائیکورٹ‘ فالکنز ایکسپورٹ کیس‘وزارت خارجہ سے جواب طلب

31

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے 150 فالکنز کی بیرون ملک ایکسپورٹ روکنے کے لیے دائر درخواست پروزارت خارجہ کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہاکہ فالکنز ایکسپورٹ نہیں بلکہ تحفتاً دیے جارہے ہیں،فالکنز تحفتاً دینا خارجہ پالیسی کی وجہ سے حساس معاملہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ طیب شاہ صاحب یہ نہ کہیں نہ کوئی قانون سے بالاتر ہے نہ ہی اس طرح تحفہ دیا جا سکتا ہے۔دوران سماعت وزارت موسمیاتی تبدیلی نے فالکنز کی ایکسپورٹ کی مخالفت کردی اور نمائندہ نے کہاکہ عالمی قوانین کی پاسداری ہم پر لازم ہے، فالکنز کی ایکسپورٹ نہیں کر سکتے ہیں۔اس موقع پر نمائندہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہاکہ ہم نے کوئی پرمٹ جاری نہیں کیااور نہ فالکنز ایکسپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت خارجہ فالکنز ایکسپورٹ پر عالمی قوانین کی پاسداری سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کرے، آپ وزیر اعظم کے سامنے رپورٹ رکھیں کہ ہم عالمی قوانین کی پاسداری کے پابند ہیں،نہ آئین کی کوئی شق اس کی اجازت دیتی ہے نہ کوئی اتھارٹی اس طرح تحفہ دے سکتی ہے۔درخواست گزار وکیل نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ فالکنز کو ایکسپورٹ کردیا جائے گا۔اس پر عدالت نے کہا کہ کیسے ریاست پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرسکتی ہے۔،عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت4مارچ تک ملتوی کردی۔