مارٹن کوارٹرز کی رہائشی بیوہ کے مکان پر قبضے کی کوشش ناکام

34

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مارٹن کوارٹر کی رہائشی بیوہ خاتون کے گھر پر قبضے کی کوشش کو جماعت اسلامی کے رہنما نے ناکام بنا دیا ہے،جماعت اسلامی کے رہنما،یوسی 13 جمشید ٹائون کے سابق نائب ناظم و سماجی رہنما کلیم الحق عثمانی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارٹن کوارٹر کی رہائشی اے جی سندھ سے ریٹائرڈ 18 گریڈ کی پریشان حال بیوہ خاتون آفیسر نجمہ بی بی کے مکان پر ان کی غیر موجودگی میں گزشتہ روز قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا تھااور نہ صرف ان کے گھر پر قبضہ کیا گیا بلکہ ان کے گھر کا سارا سامان اٹھا کر غائب کردیا ہے المیہ یہ ہے کہ جن قبضہ مافیا نے بیوہ خاتون کے مکان پر قبضہ کیا ہے انہیںلوگوں نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دی کہ ہمارے گھر کا تالہ توڑ کر گھر پر قبضہ کیا جارہا ہے‘ بیوہ خاتون کے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا ہے ،جبکہ قبضہ مافیا کے کارندوں نے علاقے کے امام مسجد اور بیوہ خاتون سے انتہائی بد تمیزی کی اور پولیس موبائل میں زبردستی لے جانے کے لیے زدوکوب کیا تاہم اہل علاقہ کے ساتھ مل کر میں خاتون کی مدد کے لیے پہنچا اور قانونی طریقے سے بیوہ خاتون کو ان کا گھر ان کے حوالے کروایا ہے۔انہوں نے کہا کہ مارٹن کوارٹر کی زمینوں پر قبضہ، دکانوں کے تالے ٹوٹنے ، گاڑیوں کے شیشے چوری ہونا ،ڈکیتی ،چوری اوررہزنی کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ یہاں ایم این اے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ایم پی اے جمال صدیقی کو علاقے کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے پورا علاقہ بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے مکانات پر قبضہ کیا جارہا ہے اور قبضہ گروپ پی ٹی آئی کے ایم این اے اور ایم پی اے کی سرپرستی میں یہ سب کچھ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارٹن کوارٹر کے مکانوں پر قبضہ کرنے والے مافیا کے اصل سرغنہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور جمال صدیقی ہیں ان کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارٹن کوارٹرکے مکینوں کے حقوق کے لیے گورنر سندھ کی زیر نگرانی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جمال صدیقی اس کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ لیکن انہوں نے مارٹن کوارٹرکے مکینوں کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ بلڈرز مافیا کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی بنادی گئی ہے جو غریبوں اور بیوائوں کے مکانوں پر زبردستی قبضہ کررہی ہے، پی ٹی آئی کی پوری کابینہ بنیادی طور پر بلڈر مافیا پر مشتمل ہے انہوں نے کہا کہ جو کچھ مارٹن کوارٹر میں ہورہا ہے میں ان دونوں کو قصور وار سمجھتا ہوں۔