ملک پر 600خاندانوں کاقبضہ ہے‘طلبہ یونین پر پابندی آمرانہ ہتھکنڈے ہیں‘ سراج الحق

275

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں 600 کے قریب خاندانوں کی حکومت ہے جنہوں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر رکھاہے ۔ پاکستان میں سونے کے وسیع ذخائر ، چار موسم ، بہترین آبپاشی نظام ہونے کے باوجود لاکھوں افراد روٹی کے لقمے کے لیے ترس رہے ہیں ۔ حکمران طبقہ نے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کے بجائے مسلسل کمی کی جارہی ہے۔ طلبہ یونینز پر پابندی حکمرانوں کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا ثبوت ہیں۔ طلبہ یونینز کی بحالی وقت کا تقاضا اور طلبہ کا جمہوری حق ہے۔ وزراء اور بیوروکریٹس کے بچوں اور بچیوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے کیا مسائل ہیں ۔ پی ٹی آئی نے دوسرے وعدوں کی طرح یکساں نصاب تعلیم کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا ۔ مغربی طاقتوں کے ایجنٹ قومی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ عربی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے ۔ جماعت اسلامی ملک کو سیکولر ائز کرنے کی سازشوں کا بھر پور مقابلہ کرے گی۔ ریاست مدینہ ہم بنائیں گے ، طلبہ جدوجہد کریں ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ملاقات میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ اسد علی ، ناظم جنوبی پنجاب سعد سعید ، ناظم پنجاب شمالی احسن بلال ہاشمی شامل تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 1970 سے لے کر اب تک ہونے والے 9 انتخابات میں جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے اور قوم کو وعدوں اور نعروں سے بے وقوف بنایا ۔انہوں نے کہاکہ الیکشن میں پیسے اور طاقت کے زور پر سسٹم کو ہائی جیک کیا جاتاہے ۔ اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک قدرتی ذخائر کی دولت سے مالا مال ہے ۔ پاکستان میں دنیا کے کل سونے کے ذخائر کا 2.6 فیصد ہے اور تانبے کے ذخائر کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے ۔ صرف ریکوڈک کے ذخائر کی مالیت 500 ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ ملک کے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار پھررہے ہیں ۔ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو دھوکا اور فریب میں رکھا ۔ نوکریاں فراہم کرنے کے بجائے روزگار پر لگے لوگوںسے بھی روٹی کا نوالہ چھین لیا ۔ ملک میں تعلیمی انقلاب لانے کے دعوے داروں نے ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کی جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بہت سے پراجیکٹس کو بند کرنا پڑا ۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی نے یکم جنوری 2020 ء سے پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا بلکہ مستقبل قریب میں اس کے پورا ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ۔ امیر جماعت نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کردار کو سراہتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اسلامی روایات و تہذیب کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں ۔ اسلاموفوبیا کلچر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور ماڈرن ٹیکنالوجی اور علوم سے بھر پور استفادہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان طلبہ و طالبات ملک کا مستقبل ہیں ، انہیں جدوجہد اور محنت پر یقین رکھنا چاہیے ۔ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے ۔