لاپتا افراد کی عدم بازیابی ، عدالت پولیس حکام پر برہم

51

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے یوسف سمیت دیگر لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق دائر درخواستوں پر وزارت داخلہ کے فوکل پرسن کو طلب کرتے ہوئے سماعت 29مارچ تک ملتوی کردی۔ منگل کو جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے یوسف سمیت دیگر لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔فاضل عدالت نے لاپتا شہریوں کے حوالے سے آئندہ سماعت تک پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی ہے ۔سماعت کے موقع پر عدالت نے لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کیا ۔اس موقع پر جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹس پر دستخط تک نہیں کیے جاتے ہیں ۔ سماعت کے دوران لاپتا شہری یوسف کے بھائی نے دہائیاں دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس کے بھائی یوسف کو لاپتا ہوئے9 سال ہوگئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے پیسوں کا تقاضا کیا جا رہا ہے ،جب تحقیقات کے لیے جاتا ہوں کہا جاتا ہے کہ پیسے لاؤ، جج صاحب یہ لوگ وردی کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں،15 سالہ بچے کو یہ لوگ واپس نہیںلاسکے۔ دوران سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی اور لاپتا افراد کے اہل خانہ سے اس طرح کا رویہ رکھا جاتا ہے؟، بعد ازاں عدالت نے وزارت داخلہ کے فوکل پرسن کو طلب کرتے ہوئے سماعت 29مارچ تک ملتوی کردی۔