قومی اسمبلی:سودی کاروبار پر پابندی کا بل منظور

270

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے بچوں کو جسمانی سزا اور سود کی بنیاد پر کاروبار، نجی رقوم کا لین دین، ایڈوانس لینے اور ترسیلات کی سرگرمیوں کی ممانعت کے بلزمنظور کر لیے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، نجی بلز نمٹائے گئے ۔ ایوان میں پی ٹی آئی کے رکن ثنااللہ مستی خیل کے سودی کاروبار و سودی قرضہ جات کی ممانعت کے بل کی خواندگی کی گئی۔ بل کے تحت نجی شعبہ بھی سود میں کاروبار نہیں کرسکے گا۔ سودی اقساط پر اشیا فروخت نہیں کی جاسکیں گی۔ بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا۔اغراض و مقاصد میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی قرض شارکوں اور قرض دہندگان جو سود وصول کررہے ہیں اور پھر اس کی وصولی کے لیے قرض خواہوں کو تنگ کرتے ہیں کی پیدا کردہ لعنت کو ختم کرنا ضروری ہے لہٰذا یہی اس بل کا مقصد ہے۔ بل 18 شقوں پر مشتمل ہے اور اسلام آباد کے علاقے پر نافذالعمل ہوگا۔ قومی اسمبلی میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کے احکام وضع کرنے کے بارے میں بھی پیشرفت ہوگئی ہے ، خاتون ایم این اے مہناز اکبر عزیز کے بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔ بل کے تحت کسی بھی مقام پر کسی بھی تعلیمی ادارے، کسی بھی روایتی غیر روایتی ، مذہبی ، سرکاری، نجی مقامات جہاں جہاں بچوں کی دیکھ بھال ، تعلیم ، بحالی اور دیگر مراکز ہیں اس حوالے سے یہ نافذ العمل ہوگا۔ کسی بھی شخص کی جانب سے بچوں کو دی جانے والی جسمانی سزا سے محفوظ رکھنے کے احکامات ہیں۔ اسلام آباد پر نافذ العمل ہوگا۔ جن سزائوں کی اس بل میں نشاندہی کی گئی ہے ان میں بچے کے خلاف قوت کے استعمال، اس کو درد ، تکلیف پہنچانے ہراساں کرنا بھی شامل ہے ،اسی طرح بچے کو ہاتھ سے زور دار تھپڑ لگانا ، جوتے مارنا ، چابک، چھری، بیلٹ، لکڑی کا چمچہ پٹائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکے گا بچے کو ٹھڈے مارنا، جھنجھورنا، پھینکنا، خراش ڈالنا، اذیت دینا، دانتوں سے کاٹنا، بالوں سے پکڑنا یا کان پر تھپڑ لگانے کی بھی ممانعت ہوگی ،اسی طرح بچے کو جلانا، ابلتے ہوئے پانی سے زخمی کرنا۔ زبردستی بچے کے منہ کے باہر صابن، مصالحہ یا دیگر ذہنی اذیت دینے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ بل کے تحت ملوث شخص کی مراعات اور دیگر الائونسز روک دیے جائیں گے۔ سنگین سزا کی نشاندہی پر نوکری سے نکالا جاسکے گا۔ جبری طورپر بھی برطرف کیا جاسکے گا۔ شکایت کے اندراج کے لیے مجسٹریٹ کا تقرر ہوگا۔ قومی اسمبلی میں گوالوں کی تربیت ، شہد کی مکھیوں، مرغیوں کی افزائش کے بلز بھی پیش کیے گئے ۔ عربی زبان کو لازمی مضمون قرا ردینے کا بل مولانا عبدالاکبر چترالی اور سید جاوید حسنین نے مشترکہ طورپر پیش کیا۔ سینیٹ میں یہ بل سینیٹر محمد جاوید عباسی منظور کراچکے ہیں۔ تمام تعلیمی اداروں کے طلب علموں کے لیے عربی لازمی مضمون ہوگا۔ وفاقی حکومت کے زیر ملکیت تمام تعلیمی ادارے قانون پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے بھی اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں قرآن فہمی سے متعلق بل تیار کیا ہے۔ پرائمری کلاسز میں ناظرہ قرآن پڑھایا جائے گا۔ اگلی کلاسوں میں قرآن پاک باترجمہ پڑھایا جائے گا۔ مولانا عبدالاکبر چترالی اور دیگر ارکان کے اس بل کو قائمہ کمٹیی کے سپرد کردیا گیا۔ جسے کمیٹی کو بجھوا دیا گیاہے۔ الکرم بین الاقوامی ادارہ کے قیام کا بل بھی منظور کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر ڈے کے آغاز میں اسپیکر اسد قیصر نے دونوں طرف کے ارکان کو انتباہ جاری کیا کہ ایوان کا تقدس برقرار رکھا جائے ،انتباہ جاری ہوتے ہی پی ٹی آئی کے 15 سے زائد ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے پلے کارڈز اٹھا کر اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے ۔ وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، علی محمد خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ حکومتی ارکان نے سندھ حکومت کیخلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ بھی اپوزیشن کی لابی سے درجنوں پلے کارڈز اٹھا لائے، حکومتی ارکان کے سامنے اپوزیشن ارکان ان پلے کارڈز کو اٹھا کر کھڑے ہوگئے۔ ان پلے کارڈز پر سلیکٹڈ حکومت نامنظور ، جعلی حکومت نا منظور، مافیاز نا منظور اور وزیراعظم کے خلاف نعرے درج تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کی کارروائی معطل کردی اور حکومتی ارکان پلے کارڈ اٹھائے اسپیکر چیمبر میں چلے گئے۔ اسپیکر کے سمجھانے بجھانے پر بعد کی کارروائی انتہائی پرسکون ماحول میں ہوئی اور نجی بلز نمٹائے گئے۔