یونیورسٹیز فنڈز کم کرنے پر تحقیقی کام ٹھپ ہو نے کا انکشاف

123

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس کنوینر چوہدری حامد حمید کی سربراہی میں ایچ ای سی میں منعقد ہوا، جس میں  قائد اعظم یو نیورسٹی کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز کے فنڈز کم کرنے پر تحقیقی کام ٹھپ ہو گیا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن حکام نے کہا کہ ملک بھرکی یونیورسٹیز کو مالی دباؤ سے نکالنے کے لیے سیاسی طور پر بھرتی کیے گے ملازمین کو حکومت کسی اور شعبے میں لے جائے اور مزید بھرتیاں نہ کی جائیں تو مالی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تعلیم کی سب کمیٹی میں اراکین کمیٹی نے تمام یونیورسٹیزکو سنٹر  لائیز کرنے کی سفارش بھی  کی،

 کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایچ ای سی حکام نے کہاکہ کرونا کے دوران ایک لاکھ ڈگریوں کی تصدیق کی ہے،کمیٹی نے اگلے اجلاس قائد اعظم یونیورسٹی ،اسلامی یونیورسٹی اور علامہ اقبال میں رکھنے کا اعلان کر دیا۔

اجلاس میں قائد اعظم یو نیورسٹی کے وائس چانسلر نے  کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کی قبضہ کی گئی 6 ہزار کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرالی گئی ہے، ان علاقوں میں جانور باندھے ہوئے تھے۔

 انہوں نے کہا یونیورسٹی کی زمین پر غیر قانونی دکانیں بنی ہو ئی ہیں، جن کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سی ڈی اے نے گرانے کی کوشش کی تو پانچ چھ سو طلباء نے انفورسمنٹ عملے کو مار کر بھگا دیا۔

 حکام کے مطابق یونیورسٹی میں غیر قانونی طلبہ رہائش پذیر ہیں جبکہ وہاں طلبہ منشیات کا عام استعمال کرتے ہیں، کمیٹی کے استفار پر حکام نے بتایاکہ جب قائد اعظم یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس میں چاروں صوبوں بشمول جی بی آزاد کشمیر کے طلبہ کا کوٹہ رکھا گیا تھا مگر اب وہاں ان طلبہ نے لسانی تنظیموں کے نام پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ یونیورسٹی کی حدود سے قبضہ مافیا کا خاتمہ کیا جائے اس سلسلے میں امن و امان قائم کرنے والی فورس کو استعمال کیا جائے ۔

کمیٹی میں اسلامی یونیورسٹی کے حکام نے بتایا کہ تارکول پلانٹ کی وجہ سے بہت زیادہ آلودگی کا سامنا ہے، سی ڈی اے نے وعدہ کیا تھا پلانٹ جی تیرہ شفٹ کر دیا جائے گا مگر ابھی تک نہیں کیا گیا۔

 وی سی اسلامک یونیورسٹی کا کہناتھا کہ ہمارا بھی قائد اعظم یونیورسٹی کی طرح زمین کا معاملہ ہے، سی ڈی اے کے ساتھ تنازعہ ہے انہوں نے یونیورسٹی کو ساڑھے سات سو کنال زمین دی، یونیورسٹی کمرشل بنیادوں پر آئی ٹی لیب بنانا چاہتی ہے مگر سی ڈی اے حکام اجازت نہیں دیتے ۔

 جس پر کنونئیرکمیٹی نے کہاکہ کمرشل مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کیاجا سکتا ہے، رکن کمیٹی علی نواز اعوان نے کہا کہ ٓاپ کی یونیورسٹی کا چارٹر کیا کہتا ہے یونیورسٹی کمرشل سرگرمی نہیں کرسکتی حکام کا کہناتھا کہ حکومتی یونیورسٹی کو چالیس فی صدگرانٹ جبکہ ساٹھ فی صد ہم خودریونیو دیتے ہیں ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں چارٹر خاموش ہے۔

رکن کمیٹی صدقت عباسی نے کہاکہ وفاق میں تمام یونیورسٹیز کا فارمولاہے چیئر مین ایچ ای سی نے کہاکہ ماڈل یونیورسٹیز ایکٹ ایک ہونا چاہیے ،رکن کمیٹی علی نواز اعوان نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے ایک شہر میں دو ایکٹ ہوں؟ صداقت عباسی نے کہا کہ ماڈل ایکٹ منگوا کر تمام یونیورسٹیزکو سنٹر لائیز کیاجائے۔ایک سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ کرونا کے دوران ایک لاکھ ڈگری کی صدیق کی ہے پندرہ دنوں میں ڈگری مل جاتی ایچ ای سی حکام نے بتایا اس وقت دو ہزار درخواستیں روزانہ کی بنیاد پر موصول ہورہی ہیں ۔