میانمر کے جرنیلوں پر پابندیوں کی یورپی تیاری

73

برسلز/ نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ میانمر میں فوجی بغاوت کے مرکزی کردار افسران پر پابندیاں عائد کرنے کی تیار ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز برسلز میں ایک کانفرنس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین میانمر میں یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے ذمے دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میانمر کی فوج ملک میں کشیدگی کے خاتمے، اقتدار عوامی حکومت کو سونپنے اور گرفتار سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ دوسری جانب امریکا اور جاپان نے بھی میانمر میں تشدد کی مذمت کی ہے۔ ادھر میانمر کی فوجی حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پیر کے روز بھی ہزاروں مظاہرین نے ینگون کی سڑکوں پر نئے مظاہرے کیے، جب کہ کاروبار زندگی معطل رہا۔ یکم فروری کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ ہفتے کے روز ان مظاہروں کے دوران مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے۔ پیر کے روز ینگون میں جمع ہونے والے مظاہرین نے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کر دے۔ نوبل امن یافتہ سوچی یکم فروری سے فوجی کی حراست میں ہیں۔ میانمر کی فوج نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ فوج کی طرف سے ملک کا کنٹرول سنبھالنا ایک آئینی عمل ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرقانونی مظاہروں، اشتعال انگیزی اور تشدد کے باوجود متعلقہ حکام طاقت کے بے جا استعمال سے احتراز کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی اہل کار ملکی قوانین اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں۔ یاد رہے کہ میانمر میں 5 دہائیوں تک فوجی جنتا کی آمریت کے بعد 2015ء میں جمہوری نظام فعال ہوا تھا۔