میلکم ایکس کے قتل میں پولیس اور ایف بی آئی ملوث

105

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے مسلمان رہنما میلکم ایکس کے قتل سے متعلق نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹوں کے مطابق میلکم ایکس کے قتل کے وقت نیویارک پولیس میں خدمات انجام دینے والے ایک افسر رے ووڈ نے 10برس قبل اپنے انتقال سے قبل بستر پر ایک خط چھوڑا تھا، جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ میلکم ایکس کی سیکورٹی پر مامور افراد کو جرم کے لیے آمادہ کرنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ یہ خط اے بی سی نیوز نے حاصل کرکے اس کے مندرجات عام کردیے ہیں۔ رے ووڈ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ 1964ء میں نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ نے اسے اس لیے ملازمت پر رکھا تھا کہ وہ شہری حقوق کی تنظیموں میں گھس کر ایسے پہلو تلاش کرے جنہیں مجرمانہ قرار دے کر ایف بی آئی ان کی مہمات کو بدنام اور ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاسکے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ میلکم ایکس کے قتل سے قبل ان کے 2 اہم ترین محافظوں کو مجسمہ آزادی کو بم دھماکے میں اڑانے کی سازش تیار کرکے سیاہ فام رہنما کی سیکورٹی سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس رپورٹ کے تناظر میں میلکم ایکس کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ شہری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے میلکم ایکس کے قتل کی سازش نیویارک پولیس اور ایف بی آئی نے تیار کی تھی۔ میلکم ایکس ایک سیاہ فام امریکی مسلمان تھے، جنہیں امریکا میں نسانی حقوق تحریک کے دوران ایک مقبول ترین آواز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 19 مئی 1925ء کو امریکی ریاست نبراسکا میں پیدا ہوئے اور 21 فروری 1965ء کو نیو یارک میں ایک قاتلانہ حملے میں شہید کردیے گئے۔ وہ مسلم مسجد اور آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن کمیونٹی کے بانی بھی تھے۔ انہوں نے مریکا میں سیاہ فاموں کے حقوق کا علم بلند کیا اور دنیا بھر میں سیاہ فاموں کے مشہور ترین رہنما بن کر ابھرے۔ امریکا میں سفیدفام اشرافیہ کو ان کی اسلام پسندی اور سیاہ فام حقوق کے لیے جدوجہد ایک آنکھ نہیں بھائی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے، مگر میں اس کی پروا نہیں کروںگا۔ 21 فروری 1965ء کو نیویارک میں لیکچر کے دوران اگلی قطار میں موجود 3 آدمیوں نے ریوالور اور شاٹ گن سے اس پر بے دریغ گولیاں برسائیں۔ میلکم ایکس موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ انہیں شہید اسلام اور نسلی برابری کا رہنما کہا گیا۔ وہ نسلی امتیاز کے خلاف دنیا کے سب سے بڑے انسانی حقوق کارکن مانے جاتے ہیں۔