مصر اور اسرائیل نئی گیس پائپ لائن بچھانے پر متفق

68
رام اللہ: فلسطینی صدر اور مصری وزیر پیٹرولیم کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط ہو رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر اور اسرائیل بحیرۂ روم کے مشرق میں گیس کی ایک نئی پائپ لائن بچھانے پر متفق ہو گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے دونوں ممالک کے وزرائے توانائی کے درمیان ملاقات میں اس منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم کے مشرق میں لیویاثان گیس فیلڈ اور مصر کے درمیان مجوزہ سمندری پائپ لائن کا مقصد یورپ کو بھیجی جانے والی قدرتی گیس کے حجم میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سمجھوتے کا اعلان مصری وزیر توانائی طارق الملا کے بیت المقدس کے دورے کے دوران کیا گیا۔ دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیر خارجہ گبی اشکنازی اور اپنے اسرائیلی ہم منصب یونی اشٹائنٹز سے ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات سے با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مصر کی تنصیبات سے یورپ کے لیے گیس کی برآمدات کو بڑھانا ہے، تاکہ یورپ میں قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ واضح رہے کہ لیویاثان گیس فیلڈاسرائیل کی تاریخ میں توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے دسمبر 2019ء میں گیس کی پہلی کھیپ بھیجی گئی تھی۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی اور مصرنے توانائی، دولت اور قدرتی وسائل کے شعبے بالخصوص قدرتی گیس میں تعاون کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے انوسٹمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مصطفی اور مصری وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل طارق الملا نے مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر فلسطینی توانائی اتھارٹی کے چیئرمین انجینئر ظفر ملحم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران فریقین نے اس اہم شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انجینئر الملا نے اس ملاقات کے دوران فلسطین کے قومی حقوق کے لیے مصر کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ فلسطینیوںکو قدرتی وسائل کے شعبوں میں ہرممکن تعاون فراہم کیاجائے گا۔ اس موقع پر غزہ کو گیس کی فراہمی کے ایک معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔