یونانی کیمپ میں پھر آتشزدگی مہاجر بے یارومددگار

76

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) یونان میں کاراٹیپ نامی مہاجر کیمپ میں آتش زدگی کے بعد وہاں مقیم تارکین وطن ایک بار پھر کھلے آسمان تلے آ گئے۔ شدید سردی کی لہر جزیرہ لیسبوس پر قائم مہاجر کیمپوں کے پناہ گزینوں کے لیے ایک نئے انسانی المیے کا سبب بنی ہوئی ہے، جس پر عالمی امدادی اور انسانی حقوق تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر جاری وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد خیموں میں سے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہے جب کہ فضا میں خواتین کی چیخ و پکار گونج رہی ہے، جو مدد کے لیے پکار رہی ہیں۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔ حکومت کی غفلت کی وجہ سے ایسے واقعات یہاں پر معمول بن چکے ہیں۔ یونانی حکومت تارکین وطن کے لیے کچھ نہیں کررہی جب کہ کیمپوں تک صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو رسائی بھی حاصل نہیں ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے یورپ بھر کو شدید سردی اور برف باری نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا، تاہم یونانی جزیروں پر موسم سرما کی یہ شدت غیر متوقع تھی۔ یہ مہاجر کیمپوں کے رہایشیوں کے لیے ایک نئی آفت ثابت ہوئی ہے۔ لیسبوس جزیرے میں طوفانی جھکڑ، ژالہ باری اور برف باری کے سبب خیمے اڑ گئے اور کچی مٹی کا فرش دلدل میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں خیمے دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کو ٹوئٹ پر مطلع کیا گیا تھا کہ سردی کی شدید لہر نے یونان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پناہ کے متلاشی افراد جو ساموس، لیسبوس اور چیوس میں قائم کیمپوں یا خود ساختہ خیموں میں سر چھپائے ہوئے تھے، ایک المیے کی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ درجہ حرارات انجماد کی سطح سے کہیں نیچے پہنچ چکا ہے اور بے بس پناہ گزین سردی میں جم رہے ہیں۔واضح رہے کہ یونانی جزیرے لیسبوس پر اس وقت تقریباً 15 ہزار مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔