بیت المقدس: فلسطینیوں کے 4 فلیٹ مسمار کرنے کا حکم

59

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے قریب عیسویہ کے مقام پر فلسطینیوں کے 4 فلیٹوں کی مسماری کا حکم دے دیا، جن میں 17 فلسطینی رہایش پذیر ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کے ایک محافظ فادی علی علیان کو حکم دیا کہ وہ اپنے فلیٹ کو خود مسمار کریں۔ علیان کے مطابق انہوںنے عیسویہ کے مقام پر 10 سال قبل اسرائیلی انتظامیہ کے منظور کردہ نقشے کے مطابق تعمیر کی تھی، اس کے باوجود قابض حکام نے اس کے مکان کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مسماری کا حکم دیا ہے۔ دریں اثنا قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں باب الاسباط کے مقام پر ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران سرکردہ سماجی کارکن خدیجہ خویص کو حراست میں لینے کے بعد نا معلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ یاد رہے کہ خدیجہ خویص کی مسجد اقصیٰ میں بے دخلی کی 14 ماہ پر مشتمل طویل پابندی 12 فروری کو ختم ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے مقبوضہ بیت المقدس کی الثوری کالونی میں 65 سالہ فلسطینی رہ نما اور دانشور ڈاکٹر جمال عمرو کے گھر پر چھاپا مارا اور اہل خانہ کو ایک نوٹس دیتے ہوئے حکم دیا کہ ڈاکٹر جمال فوری طور پر خود کو حکام کے حوالے کردیں۔