حلیم عادل کا جیل میں حملے کا الزام، انتظامیہ کی تردید

26

کراچی (آن لائن) پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کے ترجمان نے الزام عاید کیا ہے کہ جیل میں حلیم عادل شیخ پر گینگ وار سے حملہ کرایا گیا جس سے ہڈیوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم سینئرجیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں حملے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو جیل میں کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ تفصیلات کے مطابق حلیم عادل شیخ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں حملے کے دوران حلیم عادل شیخ کی ہڈیوں میں فریکچر آئے تھے۔ جناح اسپتال کی آرٹھوپیڈک ہیڈ اے آر جمالی نے آرٹھوپیڈک وارڈ منتقل کرنے کے لیے لیٹر جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ پر تشدد ہوا وہ وڈیو بھی جاری کی جائے، جیل میں داعش کے مجرموں کے ساتھ رکھا گیا۔ جس وارڈ میں پھانسی کے مجرموں کو رکھا جاتا ہے ۔دوسری جانب سینئرجیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ پر کوئی تشدد نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نے حلیم عادل شیخ کو ہاتھ لگایا ، نہ کوئی تھپڑ یا پتھر مارا۔ محمد علی وارڈ (بی کلاس) منتقل کیا جا رہا تھا اس دوران انتظار گاہ میں موجودکچھ قیدوں نے حلیم عادل شیخ کے خلاف نعرے بازی کی اور کچھ نے جیے بھٹو کے نعرے لگائے جس پر حلیم عادل شیخ کو سکیورٹی وارڈ منتقل کیا گیا اور بی کلاس کی تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔