کیا مریم نواز بھی این آر او مانگ رہی ہیں؟

455

عمران خان کے ہمدرد اور بہی خواہ کہتے ہیں کہ کپتان جب سے اقتدار میں آیا ہے این آر او مانگنے والے اس کی جان کو چمٹ گئے ہیں اور چاروں طرف سے پریشر ڈال کر اس سے این آر او لینا چاہتے ہیں۔ یہ روز افزوں مہنگائی اور یہ آئے دن پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی این آر او مانگنے والوں کی سازش ہے تاکہ کپتان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے اور این آر او دے کر اپنی جان چھڑالے لیکن کپتان بھی اپنی ضد کا پکا ہے، وہ کہتا ہے کہ این آر او مانگنے والوں کی سازش کے نتیجے میں خواہ عوام بھوکے مرجائیں وہ این آر او نہیں دے گا، ہرگز نہیں دے گا، ایک دو مرتبہ جذبات میں آکر وہ یہ بھی کہہ چکا ہے کہ وہ استعفا دے دے گا لیکن این آر او نہیں دے گا۔ مخالفین نے اس کی یہ بات پکڑ لی ہے اور وہ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ’’این آر او نہیں دیتے تو بے شک نہ دو، استعفا دے دو‘‘۔ کپتان کے مخالفین سیاسی اتحاد، پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہوگئے ہیں اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے ’’عمران خان استعفا دو‘‘ وہ اپنے اس مطالبے کے حق میں جلسے کررہے ہیں اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان جلسے جلوسوں میں سب سے توانا آواز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ہے یا پھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز گرج برس رہی ہیں۔ وہ کپتان پر بڑی جارحانہ تنقید کرتی ہیں اور کپتان کی طرف سے این آر او نہ دینے کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہتی ہیں کہ عمران خان خود ہم سے این آر او مانگ رہا ہے لیکن بات این آر او سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اب این آر او سے کام نہیں چلے گا، اسے جانا پڑے گا۔
ابھی یہ مناظرہ جاری تھا کہ اپوزیشن کے لتاڑنے پر مامور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یہ بیان دے کر سنسنی پھیلا دی کہ مریم نواز این آر او مانگ رہی ہیں۔ وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں لیکن ہم انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر موصوف نے مزید فرمایا کہ شریف فیملی کا ہر فرد علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتا ہے۔ آخر کون سا مرض ہے جس کا علاج پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ اس بیان پر کئی اور وزیروں نے بھی ردّا جمایا۔ فواد چودھری نے کہا کہ مریم نواز نے بیک ڈور سے رابطہ کیا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز واقعی عمران خان سے این آر او مانگ رہی ہیں؟ ن لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مریم نواز نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ ان کی سرجری ہونی ہے جو پاکستان میں ممکن نہیں ہے اور انہیں بیرونِ ملک جانا پڑے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی تھی کہ وہ عمران حکومت سے کوئی درخواست نہیں کریں گی اور پاکستان ہی میں رہیں گی۔ لیگی حلقے کہتے ہیں کہ جہاں تک بیک ڈور رابطے کا تعلق ہے تو یہ ایک مبہم اصطلاح ہے۔ اس سے واضح نہیں ہوتا کہ کس نے کب اور کس سے رابطہ کیا؟ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ مریم نواز کے کسی ہمدرد نے وزیراعظم یا کسی وزیر سے بات کی تھی تو ضروری نہیں کہ اس میں مریم کی مرضی بھی شامل ہو کیوں کہ یہ ان کی افتادِ طبع کے خلاف ہے وہ جان دے دیں گی لیکن عمران خان سے کوئی درخواست نہیں کریں گی۔ لیگی ذمے داران کا کہنا ہے کہ خود میاں نواز شریف نے بھی اپنی بیماری کے حوالے سے کوئی این آر او نہیں مانگا تھا۔ وہ جب پاکستان میں بیمار ہوئے اور ان کی بیماری انتہائی خطرناک قرار دی گئی جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہ تھا تو حکومت نے ان کی بیماری کی جانچ پڑتال کے لیے کئی میڈیکل بورڈ قائم کیے تھے جن میں موجود ماہرین مریض کا تفصیلی معائنہ کرتے رہے۔ سب کی متفقہ رائے یہ تھی کہ مریض کی حالت ایسی ہے کہ اسے باہر بھیجنا ہی مناسب رہے گا۔ اگر اس میں تاخیر کی گئی اور بروقت مناسب علاج میسر نہ آیا تو مریض کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید تسلی کے لیے شوکت خانم اسپتال کے 2 ڈاکٹر مریض کے معائنے کے لیے بھیجے، جب انہوں نے بھی واپس آکر میڈیکل رپورٹس کی تصدیق کی اور پنجاب کی وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد نے ان رپورٹس کو درست قرار دیتے ہوئے مریض کو فوری طور پر لندن بھیجنے کی سفارش کی تو عمران خان بھی انسانی ہمدردی کے تحت جذبات کی رُو میں بہہ گئے اور انہوں نے میاں نواز شریف کو اپنی دُعائوں کے ساتھ لندن رُخصت کردیا۔ لیگی کہتے ہیں کہ اب بھلا اس میں این آر او کہاں سے آگیا۔ یہ الگ بات کہ لندن پہنچتے ہی میاں صاحب کی صحت بتدریج بحال ہوتی چلی گئی اور انہیں فوری علاج کی ضرورت نہ رہی۔ اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر مریم نواز کو بھی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت پیش آئی تو وہ بھی یہی آزمودہ لائن اختیار کریں گی اور میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر لندن جانے کو ترجیح دیں گی۔ ممکن ہے کہ ایسی صورت ِ حال پیدا ہوجائے کہ خود عمران خان کو اپنی دعائوں کے ساتھ انہیں رخصت کرنا پڑے اور ان کی دعائیں حسب سابق اتنی موثر ثابت ہوں کہ وہ لندن پہنچتے ہی بھلی چنگی ہوجائیں اور انہیں سرجری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
حاصلِ کلام یہ کہ مریم نواز کو این آر او مانگے کی کیا ضرورت ہے وہ خود دوسروں کو این آر او دینے کا دعویٰ رکھتی ہیں۔