ہائیکورٹ حملہ کیس‘ گرفتار وکلا کی ضمانت کیلیے جے آئی ٹی سے معاونت کی ہدایت

18

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتار وکلا نوید ملک اور نازیہ بی بی کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چودھری حسیب محمد اور تفتیشی افسر کو جے آئی ٹی سے معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاران کی طرف سے صدر ہائیکورٹ بار چودھری حسیب محمد اور رضوان عباسی ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر وکلااور تفتیشی افسر انسپکٹر جابر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیاکہ کیس کی کیا پوزیشن ہے جس پر سرکاری وکیل نے بتایاکہ فریق ایک کی سی ڈی آر اور دیگر شواہد موجودہیں،عدالت نے استفسارکیاکہ خاتون وکیل کا کیااسٹیٹس ہے اس پر سرکاری وکیل نے کہاکہ فریق ایک تک ہی نوٹس ملاتھا، جس کا ریکارڈ موجودہے جبکہ فریق 3کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، جس پر عدالت نے کہاکہ نوٹس تمام کی طرف سے تھا۔ اس موقع پر ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ2وکلا ظفر وڑائچ اور شعیب شیخ کو ڈسچارج کیا جا چکا ہے،2 وکلا جیل میں ہیں جن کی حد تک دلائل کے لیے وقت دیاجائے، چیف جسٹس کی ہدایت پرپولیس کی جے آئی ٹی کام کررہی ہے، صدر ہائیکورٹ بار جے آئی ٹی کی معاونت کریں گے۔اس پر عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔