سینیٹ الیکشن کیلیے صدر اور گورنرز کی ملاقاتیں غیر آئینی ہیں‘ میاں اسلم

15

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ ملک کا صدر اور گو رنرز بھی سینیٹ الیکشن کے لیے ملاقاتیں کر رہے ہیں جو کہ بذات خود ایک غیر آئینی اقدام ہے ،صدر اور گورنرزفیڈریشن کی علامت ہیں انھیں ہر صورت غیر جانبدار رہنا چا ہیے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان کے الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں قومی و صو بائی اسمبلی کے الیکشن کے موقع پر آئین کے آرٹیکل 62پر پورا اُترنے والے افراد کو ٹکٹ نہیں دیںگی تو پھر انھیں اسی طر ح اپنے ارکان کے بک جانے کا خوف لگا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایون بالا کے ارکان کے چنائو کے حوالے سے ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت انتہائی شر مناک ہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا جا نے والا ضابطہ اخلاق لکھنے اور پڑھنے کی حدتک تو اچھا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا جس سے مسائل پیدا ہو تے ہیں ،سیاسی جماعتیں آرٹیکل 62کے مطابق ٹکٹ جاری کریں تو ملک سے چھانگا مانگا کی سیاست کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ میاں محمد اسلم نے کہا کہ ارکان اسمبلی وزیر اعظم کے انتخاب اور فنانس بل کی منظوری کے موقع پر پارٹی کو ووٹ دینے کے پابند ہو تے ہیں اس کے علاوہ وہ اپنی مرضی سے ووٹ کا حق استعمال کر سکتے ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ سینیٹ الیکشن میں تمام جماعتوں کو متناسب نمائندگی ملے اور الیکشن کمیشن سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت اور غیر اخلاقی طریقوں سے منتخب ہو نے والے افرد کا راستہ روکنے کا انتظام کرے۔