وفاقی حکومت کا بجلی سرچارج لگانے کے اختیارات کا بل مسترد

88

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت کا بجلی صارفین پر سرچارجز عاید کرنے کے اختیارات دینے کا بل مسترد کر دیا، اراکین کمیٹی شازیہ مری غلام بی بی بھروانہ اور سائرہ بانو نے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو حلقوں میں کیا منہ دکھائیں گے ، پاو ر اور خزانہ کی وزارتوں کی طرف سے بجلی صارفین پرزیادہ سے زیادہ ایک روپے 48 پیسے فی یونٹ سرچارجز لگانے کی تجویز دی گئی تھی۔ پیر کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس چودھری سالک حسین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ، سیکرٹری خزانہ کامران افضل نے کہا کہ گردشی قرض کا حکومت پر بوجھ ہے ،بینکوں سے قرض اٹھا کر آئی پی پیز کو ادائیگیاں نہیں کر سکتے، کمیٹی کی طرف سے سرچارجز کی مخالفت کی گئی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرچارجز کا معاملہ دیکھ سکتے ہیں اگر حکومت گردشی قرض کا جامع پلان لائے، بتایا جائے حکومت کتنے سرچارجز لگانا چاہتی ہے ، پاور اور خزانہ کی وزارتوں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ بجلی کی اوسط قیمت کے 10 فیصد تک سرچارجز لگانے کی تجویز پیش کی گئی ، کمیٹی نے آئندہ اجلاس تک سرچارجز تجاویز تحریری طور پر مانگ لی ہیں ۔