جیل سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو کی حلیم عادل شیخ پر تشدد کی تردید

104

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو نے اپوزیشن لیڈر کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے واقعے کی ایک وڈیو جاری کردی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حلیم عادل شیخ 2 پولیس افسران کے ساتھ ایک سیل سے نکل رہے ہیں چند ہی سکینڈ بعد ان کو دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھاگتے ہوئے واپس سیل میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے، اس موقع پر مزید اہلکاروں نے انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا واقعے کے بارے میں سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو نے کہا کہ حلیم عادل شیخ ہفتے کی شام 4 بجے انتظار گاہ سے گزر رہے تھے کہ کچھ مخالف قیدیوں نے نعرے لگائے، حلیم عادل شیخ کو 26 سیکنڈ میں واپس سپرنٹنڈٹ آفس منتقل کیا گیا اور چند لمحوں بعد حلیم عادل شیخ کو سیکورٹی وارڈ منتقل کردیا گیا، ان کو سیکورٹی وارڈ بی کلاس کی تمام سہولتیں فراہم کی گئیں، حلیم عادل کوکسی نے ہاتھ لگایا نہ کوئی تھپڑ یا پتھر مارا۔ حلیم عادل نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو تحریری درخواست دی کہ بلڈ پریشر اور انجائنا کا مریض رہا ہوں، این آئی سی وی ڈی میں میرا علاج ہوتا رہا ہے، کچھ عرصہ قبل ڈاکٹرز نے انجیو گرافی کا کہا تھا۔ کراچی جیل ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور کہا کہ طبعیت بگڑ رہی ہے لہٰذا ان کو فوراً این آئی وی سی ڈی بھیجا جائے، جس پر جیل انتظامیہ نے حلیم عادل کو این آئی وی سی ڈی منتقل کردیا۔