سینیٹ انتخابات: سندھ سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد

125

کراچی : الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ انتخابات کیلیے سندھ  سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹریبونل میں پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کے سینیٹ الیکشن میں کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی جس میں ٹریبونل کا کہناتھا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل میں لگائے گئے اعتراضات ثابت ہوئے ہیں۔

الیکشن ٹریبونل کا کہنا تھا کہ سیف اللہ ابڑو ٹیکنوکریٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل منظور کی جاتی ہے ۔

دوسری جانب  سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے امیدوار سیف اللہ ابڑو کے وکیل حیدر وحید نے الیکشن ٹریبونل میں کہا کہ ان کے خلاف اپیل ناقابل سماعت ہے جبکہ الیکشن قوانین کے مطابق اپیل کنندہ کی اپیل کو سنا بھی نہیں جاسکتا اور سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل کرنے والے مصطفیٰ میمن خود امیدوار بھی نہیں ہیں۔

وکیل سیف اللہ ابڑو کا کہناتھا کہ میرے مؤکل پاکستان انجینئرنگ کونسل سے لائسنس یافتہ انجینئر ہیں اور تعلیم یافتہ شخص ہی ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹ انتخابات کا امیدوار ہوسکتا ہے اور  16 سالہ تعلیم اور 20 سالہ تجریہ ہوتو امیدوار ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حصہ لے سکتا ہے اور سیف اللہ ابڑو کنسٹرکشن کمپنی کے سی ای او ہیں۔

سیف اللہ ابڑو کے وکیل حیدر وحید کا کہناتھا کہ جس پروجیکٹ پر نیب تحقیقات کا الزام لگایا گیا ہے وہ سیف اللہ ابڑو کیخلاف نہیں جبکہ سیف اللہ کے وارنٹ گرفتاری معطل ہوچکے ہیں اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہے۔

وکیل حیدر وحید کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس ریکارڈ کے مطابق 110 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے اور اتنی آمدنی ہوگی تو 2018 ء کے مقابلے میں اثاثے بڑھیں گے جبکہ   اپیل کنندہ کے وکیل رشید اے رضوی کا کہناتھا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف ملتان اور سکھر میں نیب تحقیقات جاری ہےجس پر جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ یہ تو سیف اللہ کے وکیل نے بھی تسلیم کیا ہے۔

مصطفیٰ میمن کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹھیکیدار کو ٹیکنو کریٹ کا امیدوار تسلیم کریں گے تو کل سینیٹ ٹھیکیداروں سے بھری ہوئی ہوگی جس پرکمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔