پاکستانی برآمدکنندگان اعلیٰ معیاری ویلیو ایڈیڈ مصنوعات پر توجہ دیں، جرمن قونصل جنرل

50

جرمن تاجر پاکستانی تاجر وںکو شراکت دار بنانے میں کردار اداکریں،ہولگر زیگلر

پاکستان،جرمنی زرعی،ٓٹوموٹیو سیکٹر میں مشترکہ منصوبوں میں تعاون کرسکتے ہیں، شارق وہرہ

جرمنی کے قونصل جنرل ہولگر زیگلر نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستانی برآمد کنندگان زیادہ تر ٹیکسٹائل، لیدر چمڑے اور کچھ دیگر مصنوعات جرمنی بھیج رہے ہیں لیکن انہیں جرمنی اور دیگر ملکوںکو زیادہ برآمدات کے لیے ہیومن کیپٹل کا اچھا استعمال کرنا ہوگا اور صنعتوں کی ترقی و اعلیٰ معیاری ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنا ہوگی۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر ایک اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کے سی سی آئی کے صدر ایم شارق وہرہ، سینئر نائب صدر ثاقب گڈلک، نائب صدر شمس الاسلام خان، کے سی سی آئی کی ڈپلومیٹک مشنز وایمبیسیز لائژن سب کمیٹی کے چیئرمین جنید منڈیا و دیگربھی شرکت تھے۔
جرمن قونصل جنرل نے اس بات پر زور دیاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو برآمدات کے لیے خام مال یا سیمی فنشڈ گڈز کی تیاری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ وہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر ہی نہیں بلکہ دوسرے شعبوں کی بھی پوری ویلیو چین کی تمام اقسام کو تیار کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ پاکستانی برآمدکنندگان کو اس خطے کا جائزہ لیناچاہیے کہ کس طرح بنگلہ دیش اور دیگر حریف جرمنی و دیگر ملکوں کو اپنی برآمدات میں بہتری لائے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں بطور قونصل جنرل کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل انہوں نے چار سال تک جدہ میں قونصل جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اس سے پہلے وہ برلن میں وزارت خارجہ کی وزارت میں ایکسپورٹ پروموشن کے سربراہ تھے اور پھر انہوں نے بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے شہر یا ملک میں تعیناتی کوترجیح دیتے جہاں جرمنی کی تجارت پہلے سے ہی ایک مستحکم سطح پر ہے اس پورٹ سٹی کی معاشی اہمیت کی وجہ سے اور اس شہر کی جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی ترقی کی صلاحیت کے سبب کراچی میں تعیناتی کو ترجیح دی جہاں امکانات کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی بہت زیادہ ہیں تاکہ وہ ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے میں ایک سفارتکار کی حیثیت سے کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے جرمنی کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی خواہشمند کراچی کی تاجر برادری کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ ہم خود کو ان لوگوں کے لیے سہولت کار کے طور پر دیکھتے ہیں جو ملک کو ترقی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت وبائی مرض کی وجہ سے تجارتی میلوں کی عدم موجودگی اور جرمنی یا دوسرے ملکوںکے سفر کے امکانات کی عدم موجودگی کا سامنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حفاظتی اقدامات اور ویکسینز کی مدد سے جن میں سے ایک انتہائی مو¿ثر ویکسین جرمنی میں بھی تیار کی گئی ہے جس کے بعد ہم جلد ہی دوبارہ سفر کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جیسے ہی ایک دوسرے کے ملکوں میں دوبارہ دورے شروع ہوں تو جرمنی اور پاکستان کی تاجر برادری کے مابین مشترکہ شراکت داری کے ہرممکن امکات کا جائزہ لیں۔اس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے اس مسئلے سے نمٹنا ہو جوسیکیورٹی خدشات کے سبب پاکستان میں داخل ہونے کا خوف ہے تاہم وہ پوری کوشش کریں گے کہ جرمنی کے تاجروں کو یہاں لائیں اور جب وہ ایک بار یہاں ہوں تو انہیں شراکت دار بنانا آپ کی ذمہ داری ہے۔
قبل ازیں صدر کے سی سی آئی شارق وہرا نے جرمنی کے انتہائی ترقی یافتہ زرعی و آٹوموٹیو سیکٹر کو اجاگر کرتے ہوئے ان دونوں شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعاون کی ضرورت پر زور دیا چونکہ جرمنی میں کاشت کی جانے والی بیشتر زرعی مصنوعات پاکستان میں بھی بوئی جاتی ہیں جبکہ یہاں کے آٹوموٹیو سیکٹر میں بھی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے لہٰذا جرمنی کی تاجربرادری کو آگے آنا چاہیے اور تعلقات کو بہتر بنانے نیز پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہوں گے اگرچہ جرمنی پاکستان کو بہت کچھ پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس پیشکش سے فائدہ اٹھا نہیں سکے جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔انہوں نے مختلف سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے امداد اور گرانٹ کی صورت میں جرمنی کی جانب سے پاکستان کو مستقل مدد اور پیشہ ورانہ تربیتی اقدامات کی بھی تعریف کی جس نے پاکستانی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں بہت مدد کی اور معیشت کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔