سینیٹ الیکشن: ایم کیوایم کے دو امیدواروں کی نااہلی برقرار

137

الیکشن ٹریبونل نے ایم کیوایم کے دو امیدواروں کی سینیٹ انتخابات کے لیے نااہل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے ایم کیوایم کے رؤف صدیقی اور خضر عسکر زیدی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

ریٹرنگ افسرنے اعتراض اٹھایا تھا کہ روَف صدیقی کی گریجویشن کی تعلیم 16 برس کی نہیں ہے، روَف صدیقی نے بی اے کر رکھی ہے  لیکن2 سال  والی ڈگری ہے۔

روَف صدیقی نے ریٹرنگ افسرکے فیصلے کو سندھ  ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا جب کہ سندھ ہائی کورٹ الیکشن ٹریبونل  نے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر خضر عسکر زیدی کی اپیل بھی مسترد کردی۔

ٹریبونل نے ایم کیوایم رہنماخضر عسکر زیدی  کی  کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے 19 فروری کو سندھ سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل کرلیا گیا تھا اور  سندھ سے سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رؤف صدیقی اور خضر زیدی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گیے ہیں۔

سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو 39 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے تھے جن میں سے الیکشن کمیشن نے تینوں کیٹگریز کے 35 نامزدگی فارم منظورکرلیے جبکہ ایم کیو ایم کے 2 اور  تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کے 1 امیدوار کا فارم مسترد کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق  پیپلزپارٹی کے 13 اور تحریک انصاف کے 12 میں سے 11 امیدواروں کے کاغذات منظور ہوگیے جبکہ تحریک انصاف کی زنیرہ ملک ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئیں اور ان کے فارم کو پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے غلط قرار دیا تھا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے مطابق ایم کیو ایم کے 10 میں سے 8 امیدواروں کے کاغذات درست قرار دیے گیے ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹ پر ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی کے کاغذات مسترد ہوئے کیونکہ رؤف صدیقی 16 سال کی تعلیمی قابلیت کے معیار پر پورا نہیں اترے اور الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیکنو کریٹ کی سیٹ کےلیے16 سال کی تعلیم ضروری ہے۔

 خیال رہے ایم کیو ایم کے خضر زیدی کا نامزدگی فارم بھی مسترد کردیے ہیں اور الیکشن کمیشن کے مطابق  20سال کا تجربہ نہ ہونے پر خضر زیدی کےکاغذات نامزدگی مسترد کیےگئے ہیں۔