قومی وحدت میں بلوچوں کی حیثیتوں کو تسلیم کیا جائے، اسحاق بلوچ

15

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسحاق بلوچ نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے احساس محرومی ختم کرنے کے لیے قومی وحدت میں بلوچوں کی حیثیتوں کو تسلیم کیا جائے، بلوچستان میں آج بھی تعلیم، روزگار اور عوام پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ حکمرانوں سے 18ویں ترمیم ہضم نہیں ہوپارہی، وقت کی ضرورت ہے کہ 18ویں ترمیم کی حفاظت کی جائے۔ وہ حیدرآبادپریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے، جس میں سے صرف دو سے تین لاکھ نوجوان تعلیم یافتہ ہیں، اسلام آباد میں بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل پر دوسرے نوکریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی تو خرابی ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، صوبوں سے احساس محرومی کے خاتمے کے لیے بہتر وفاق اور بہتر جمہوریت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک گوادر سے شروع ہورہا ہے لیکن گوادر ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت ہزاروں افراد تربیت حاصل کرنے کے لیے چائنا گئے بتایا جائے کہ اس میں یہاں کے کتنے لوگ شامل تھے۔ اس موقع پر سینئر بلوچ رہنما رؤف ساسولی، پریس کلب کے نائب صدر ظفرہ، جنرل سیکرٹری اقبال ملاح ودیگر بھی موجود تھے۔