حکومت میں ناپسندیدہ افراد ناکامی کا سبب بن رہے ہیں،ارباب غلام رحیم

73

میرپورخاص (نمائندہ جسارت)سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ موجود ہ حکومت کی ناکامی کا سبب عوامی مسائل سے صرف نظر او ر مہنگائی، بد عنوانی اور معیشت کی تباہی ہے، موجودہ حکومت میں مافیاز اور ناپسندیدہ افراد ناکامی کا سبب بن رہے ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو لوگ بارہ گریڈ کی نوکری کے لیے در بدر تھے، انہیں حکومت میں لگا دیا گیا بیڈ گورنس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ضمنی انتخابات میں ناکامی کا سامنا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سابق یوسی ناظم اے ڈی لاکھو کی والدہ کی وفات کے موقع پرتعزیت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ارباب ابراہیم ، صدر پریس کلب راشد سلیم ، عزیز خان یوسف زئی ، سجاد رند انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں اگر ووٹ بینک ہونے کے باوجود توجہ نہ دی گئی تو شکست اور ناکامی مزید مقدر بن سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف مضبوط اپوزیشن اور دوسری طرف حکومت کی ڈھائی سالہ قراد کردگی حکمرانوں کے لیے سوالیہ نشان ہے انہوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا تھا بلکہ مہنگائی کرپشن اور مسائل میں اضافہ کیا ہے جس سے عوام بددل ہوتے جارہے ہیں جمہوری حکومتوں کا دارو مدار ووٹر اور ووٹ بینک پر ہوتا ہے اگر ووٹرز کو ریلیف فراہم نہیں کیا گیا تو حکمرانوں کی شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے سندھ اور مرکز کی حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش اگر حکومت ناکام ہوتی ہے تو پھر وہی پرانی مافیاز کو دوبارہ موقع ملے گا جس سے ملک کا نقصان ہوگا جس طرح سینیٹ کے انتخابات میں ممبران کی بولی لگائی جاتی ہے، اس تناظر میں ہاتھ اُٹھا کر ووٹنگ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے، مجھے یاد ہے کہ 1985ء کے الیکشن کے دوران ایک ممبر اسمبلی نے اپنا ووٹ دینے کے لیے بڑے پیر صاحب پگار ا سے بھی کروڑوں روپے مانگے تھے یہ الگ بات ہے کہ پیر صاحب نے انہیں پیسے نہیں دیے تھے اسمبلی میں خرید و فروخت کا معاملہ پرانا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں مگر یہ خرید و فروخت کا سلسلہ اب بند ہونا چائیے اب تو ارکان اسمبلی کی پیسے لیتے ہوئے وڈیو بھی موجود ہے خود عمران خان کی اپنی پارٹی کے لوگوں نے بھاری پیسے وصول کرکے اپنا ضمیر فروخت کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کابینہ میں ایسے لوگ بھی شامل کر دیے گئے ہیں جو صر ف بارہ گریڈ کی نوکری لینے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے تھے مگر انہیں ارکان اسمبلی بنا کر حکومتی کاموں میں شامل کر دیا گیا مجھے جب وازرت اعلی کا منصب سونپا گیا تو میں بھی اُس وقت نیا تھا لیکن ہم نے وقت دیا اور عوام میں گئے جبکہ عمران خان تو بنی گالہ سے باہر ہی نہیں نکلتے ہیں سندھ میں صرف کراچی تک آتے ہیں اندرون سندھ کے کسی شہر کا آج تک دورہ نہیں کیا جس سے عوام بھی ان سے دور ہوتے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ صوبہ بھی کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوتا جارہا ہے۔