کشمور کی اناج منڈی 25 سال گزرنے کے باوجود بھی فعال نہ ہوسکی

36

کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) کشمور کی اناج منڈی 25 سال گزرنے کے باوجود بھی فعال نہ ہوسکی۔ کاشتکار و زمیندار سستے داموں اپنی فصل بیوپاریوں و ملز مالکان کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ ڈی سی کشمور و دیگر حکام سے اناج منڈی کو جلد فعال کروانے کا مطالبہ۔ سندھ حکومت کی جانب سے کشمور ضلع بھر کے سیکڑوں منصوبے سست روی کا شکار، درجنوں منصوبے کاغذوں میں مکمل کرکے فنڈ تک جاری کردیے گئے، اسی طرح کشمور کی اناج منڈی کا افتتاح 1991ء میں محکمہ خوراک کے صوبائی وزیر سردار سلیم جان مزاری نے کیا تھا اور اسی منڈی کا دوسری بار افتتاح 1995ء میں صوبائی وزیر میر غالب حسین ڈومکی نے کیا۔ اناج منڈی کے افتتاح پر اعلابات تو بہت ہی کردیے گئے لیکن 25 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود منڈی فعال نہ ہوسکی۔ منڈی فعال نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکار و چھوٹے زمیندار بے بسی کا شکار ہیں۔ دوسری جانب سماجی رہنما بشیر ملک، ساجد چنا کا کہنا تھا کہ کشمور کی اناج منڈی کا افتتاح تو کردیا گیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ کشمور ضلع بھر کے دیگر منصوبوں کی طرح یہ اناج منڈی بھی غیر فعال ہے۔ کشمور میں مل مافیا و تاجر اتنے بااثر ہیں کہ اناج منڈی 25 سال میں بھی فعال نہیں ہوسکی۔ مزید ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اناج منڈی کے لیے گزشتہ سال ڈرینج و ٹف ٹائل کے لیے ڈھائی کروڑ کی دو اسکیمیں بھی دی گئی تھیں۔ سالانہ اناج منڈی کے لیے اسکیمیں بھی رکھی جاتی ہیں، تاحال کشمور کی اناج منڈی آج بھی 25 سال سے غیر فعال ہے۔ کاشتکار و زمیندار سستے داموں اناج فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ہم وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ڈی سی کشمور منور علی مٹھیانی و حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ معاملے کا نوٹس لے کر اناج منڈی کو جلد فعال بنایا جائے۔