سائبر کرائم میں 70 فیصد اضافہ: بڑا نشانہ خواتین

44

ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ڈی آر ایف نے اپنی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق 2020 میں ہیلپ لائن پر آنے والی شکایات میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔سب سے زیادہ شکایات کرونا (کورونا) وائرس کے لاک ڈاؤن کے دنوں میں موصول ہوئیں۔ صرف جولائی کے مہینے میں ہمیں 697 شکایات موصول ہوئیں۔ پہلے ہمیں زیادہ شکایات بلیک میلنگ کی موصول ہوا کرتی تھیں، جس میں تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر ایک فریق دوسرے کو بلیک میل کر رہا ہوتا تھا۔ اس مرتبہ رحجان میں تبدیلی دکھائی دی۔ بلیک میلنگ کی شرح اب بھی زیادہ تھی جو کہ 33 فیصد تھی لیکن ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ ہمارے پاس موصول ہونے والی شکایات میں 23 فیصد سوشل میڈیا ہیکنگ کی تھیں، جیسے وٹس ایپ ہیکنگ یا دیگر سماجی رابطوں پر بنے اکاؤنٹس کا ہیک ہوجانا۔
ڈی آر ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 57 فیصد شکایات کی کالز صوبہ پنجاب سے آئیں جو کہ سب سے زیادہ ہیں، 11 فیصد صوبہ سندھ سے، چار فیصد خیبر پختونخوا، چار فیصد اسلام آباد، دو فیصد بلوچستان جبکہ کشمیر سے ایک فیصد شکایات کی کالز موصول ہوئیں۔ زیادہ شکایت کنندہ کی عمریں 21 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔موصول ہونے والی شکایات میں 66 فیصد شکایات خواتین اور 33 فیصد مردوں کی طرف سے تھیں۔ ایک فیصد شکایات پسماندہ طبقہ جن میں ٹرانس جینڈر اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مردوں کی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی شکایت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں کیسے جمع کروائیں۔ شکایت درج ہونے کے بعد انکوائری شروع ہو جاتی ہے، لیکن بعض کیسز میں شکایت لانے والے ایف آئی اے جانا نہیں چاہتے اور ڈیجیٹل سکیورٹی میں مدد مانگتے ہیں۔وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے ہیک ہوئے اکاؤنٹس کو کس طرح واپس حاصل کریں۔ اس صورت میں ہماری سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ ایسکلیشن چینلز ہیں جن کے ذریعے ہم شکایت کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز ہیں اس لیے ضروری نہیں ہوتا کہ ہر چیز کے لیے آپ کو ایف آئی اے ہی جانا پڑے۔‘خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے رسائی میں اضافے اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد سائبر کرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔