مزدور برادری ظلم کے خلاف بغاوت کرے، شمس سواتی

44

نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی نے لاہور، فیصل آباد، ملتان، سکھر، کوئٹہ اور کراچی کا دورہ کیا۔ دورے میں NLF کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان اُن کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران پریم یونین کے ڈویژنل اجلاسوں سے خطاب کیا۔ اُن سے پریم کے مرکزی صدر حافظ سلمان بٹ کی رحلت پر تعزیت کی۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ سلمان بٹ جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے جرأت، بہادری، بے باکی کی مثالیں قائم کیں۔ نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں کے لیے زندگی وقف کیے رکھی۔ وہ ایک مدبر سیاست دان اور عظیم قومی رہنما تھے جن کی قوم کو ضرورت تھی۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آرہا، حکومت نے قوم کو مذاق بنا رکھا ہے۔ آئے دن پٹرولیم اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، IMF اور ورلڈ بینک کے ایجنڈے پر عمل پیرا حکمرانوں نے عوام کی زندگی دوبھر کردی ہے۔ مزدوروں، کسانوں اور بالخصوص دیہاڑی داروں کو فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ 73 سال سے مزدوروں کا استحصال ہورہا ہے، بدترین سرمایہ داری نظام نے بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ کارخانہ دار اور سرمایہ داروں کو اپنے منافع سے غرض ہے۔ جاگیرداروں نے کسانوں کو ظلم کی بھٹی میں ڈال رکھا ہے۔ عدلیہ، پارلیمان، انسانی حقوق کے ادارے تماشا کررہے ہیں۔ مزدور کم از کم اجرت 17500 روپے سے محروم ہے۔ سوشل سیکورٹی سمیت دیگر سماجی، بہبود کے قوانین، متعلقہ اداروں کے عملہ کے لیے مال بنانے کا ذریعہ ہیں۔ جنگل کا قانون ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، موجودہ اور سابقہ حکمران کرپشن کرپشن کا کھیل کھیل رہے ہیں اور کرپشن بڑھ گئی ہے۔ ملک کا بجٹ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ ٹیکس یوٹینشل لوگ ٹیکس نہیں دیتے، حکمرانوں نے براہِ راست ٹیکس سے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے لیے میرا پیغام ہے کہ اس نظام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ 73 سال سے اس ملک پر مسلط حکمران طبقہ تمہارا دشمن ہے۔ ان کے خلاف کھڑے ہوں، متحد ہوں اور ووٹ کی طاقت سے اس ملک میں اسلامی انقلاب برپا کریں۔ یہی مزدوروں کے تحفظ خوشحال اور سلامتی کا راستہ ہے۔ ٹریڈ یونین لیڈر اور فیڈریشنوں کے قائدین، مزدور طبقے کے حقیقی مسائل کا ادراک کریں۔ روایتی ٹریڈ یونین کرتے کرتے اور اپنی اپنی ذات میں انجمن بن کر مزدور تحریک کو ختم کردیا ہے۔ دم توڑتی مزدور تحریک کو اُٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ذاتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر مزدوروں، کسانوں اور ان کے بچوں کے لیے سوچیں۔ ان کے مستقبل کے لیے سوچیں اور گلے سڑے سرمایہ داری نظام کے خلاف متحد ہوجائیں۔ اسلامی نظام ہی واحد حل ہے۔ جو پسے ہوئے طبقات کو اوپر اٹھاتا ہے۔ انہیں جینے کا حق دینا ہے، تحفظ اور خوشحالی کا ضامن ہے، ظالموں کو ظلم سے روکنا ہے۔