بدعنوان عناصر کو کٹہرے میں لانے کیلیے کوششیں تیز کردیں‘چیئرمین نیب

21

اسلام آباد (اے پی پی) چیئرمن نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوششیں تیزکردی ہیں‘ اجتماعی کوششوں سے بدعنوانی کے خاتمے اور کرپشن فری پاکستان کے خواب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اپنے بیان میں چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا کسی سیاسی جماعت، گروپ یا فرد سے کوئی تعلق نہیں‘ نیب افسران اپنے فرائض کی ادائیگی قومی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں‘ نیب سارک کے تمام ممالک کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے714 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں‘ متعلقہ احتساب عدالتوں میں 1130 مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان کی مالیت 943 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلی بارگین جرم کے زمرے میں آتا ہے جس کی متعلقہ احتساب عدالتیں منظوری دیتی ہیں‘ پلی بارگین کے بعد ملزم نہ صرف تحریری طور پر اپنا جرم تسلیم کرتا ہے بلکہ لوٹی گئی رقم بھی قومی خزانے میں جمع کراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل قائم کیے ہیں‘ نیب بیوروکریسی کا بھی احترام کرتا ہے‘ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں487 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں‘ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔