پاکستانی نصاب تعلیم کے خلاف مغربی طاقتوں کے منصوبے

56

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان میں پرویز مشرف کے زمانے سے امریکا اور یورپ کے دبائو پر تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اور جس کے تحت قرآنی آیات کو نصاب سے نکالا گیا تھا وہ اب بھی رُکا نہیں بلکہ خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔ کبھی کوئی خبر شائع ہو جائے تو لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہو گیا، حالانکہ یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ جاری ہے اور مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی 2020ء کابینہ سے منظور ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے آیندہ تعلیمی سال سے یکساں قومی نصاب کا ملک بھر میں نفاذ اور ان بنیادی نکات کا اعلان کیا ہے جن پر یکساں قومی نصاب تعلیم تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان نکات میں قرآن و سنت کی تعلیمات، آئین پاکستان کا تعارف، بانی پاکستان اور علامہ اقبال کے افکار، قومی پالیسیاں، قومی خواہشات و معیارات، مذہبی رواداری، ترقی کے اہداف کا حصول اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تعلیمی پالیسی کوئی قانون نہیں بلکہ تعلیم کے فروغ کے لیے رہنما خطوط اور ایک فریم ورک ہے جس کی روشنی میں نصاب تعلیم، عملی منصوبہ اور قوانین وضع کیے جائیں گے۔
پاکستان میں مغربی ممالک کے فنڈز پر چلنے والی این جی اوز اور لبرل حلقوں کواس نئی تعلیمی پالیسی سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جن مقتدر حلقوں نے انہیں سیکولر نصاب تعلیم کے تسلسل کی ضمانت دے رکھی ہے وہ اس کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے اسلامی خطوط پر نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروانے کے باجود صوبہ پنجاب (جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے) کے تمام بورڈز میں میٹرک اور انٹر میڈیٹ کےنصاب میں مطالعہ پاکستان کی جو کتب پڑھائی جا رہی ہیں وہ فیمنسٹ ماہرین کی تیار کردہ ہیں۔
مطالعہ پاکستان کی کتب میں فیمنسٹ نظریات کی دراندازی:
مقامی فیمنسٹ ماہرین نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی دونوں کتب میں ’’تحفظ نسواں‘‘ کے عنوان سے ایک باب شامل کیا ہے جس میں صنف اور جنس کی تعریفات میں بتایا گیا ہے کہ ’’جنس‘‘ مرد اور عورت کی حیاتیاتی تفریق کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ ’’صنف‘‘ مرد و عورت کا وہ کردار ہے جس کا تعین معاشرہ، ثقافت اور مذہب کرتا ہے۔ ان کتب میں حقوق نسواں، عورتوں کی آزادی، خودمختاری اور مساوات کے مغربی تصورات کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کا سہارا لیا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ مذہب عہد رفتہ کی یادگار ہے، آج کی جدید تمدنی ترقی ومعاشرت میں رکاوٹ ہے اورچونکہ مذہب عورت کے صنفی کردار کا تعین کرتا ہے اس لیے تاریخی طورپر مرد وں کی طرف سے عورت پرہونے والے ہر ظلم کی بنیاد مذہب نے فراہم کی ہے۔ دوسری طرف اسی مذہب کے متون سے عورت کی اس آزادی اور خودمختاری کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو وہ مذہب سے بغاوت کے نتیجے میں حاصل کرنا چاہتی ہے۔
مرد و عورت کے صنفی کردار کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جدید غیر مذہبی معاشروں میں مردوں اور عورتوں کے سماجی تعلقات زیادہ مضبوط ہوتےہیں اور عورتوں کو بھی تعلیم، صحت، ملازمت اور دیگر شعبوں میں برابرکے مواقع ملتے ہیں جبکہ مذہبی معاشروں میں یکساں سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ مذہبی معاشروں پر تنقید کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان میں صنفی کردار کا تعین کرتے وقت عورت پر کچھ مخصوص کام تھوپ دیے جاتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے کام سرانجام نہیں دے سکتیں حالانکہ مرد اور عورت یکساں طور پر ہر کام کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثلا کھانا پکانا، صفائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال کرنااورگاڑی چلانا وغیرہ۔ مذہب کے زیر اثر صنفی کردار سازی کے ذریعے مرد اور عورت کو مخصوص معاشرتی کردار نبھانے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ مثلاً لڑکے کو بیٹ یا ہاکی دو، لڑکی کو گڑیا، لڑکا باہر کےکام کرے، لڑکی گھر داری کرے وغیرہ اور اس عمل میں لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ صنفی کردار کے تعین میں مذہب اور مذہبی اداروں کے علاوہ والدین، خاندان، گھر، محلہ، معاشرہ، اسکول، تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ، کام کی جگہ، ریاست، حکومت اور سیاسی ادارے بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے طلبہ کو یہ تاثر دیا گیا کہ جب تک ان تمام اداروں سے مذہبی تعلیمات اور روایتی اقدار کی بیخ کنی نہ کی جائے اس وقت تک جدید تمدن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
(جاری ہے)