فرانس میں مسلمان ہونا جرم بن گیا

110

نئے متنازع قانون کے تحت سخت نگرانی ہونے لگی‘ 60 لاکھ افراد کی زندگی مشکل تر بنا دی گئی
شہری آزادیوں کو سلب اور سیکولرازم کو تنگ نظری سے نافذ کیا جا رہا ہے‘ اقلیت میں خوف و ہراس بڑھ گیا

بی بی سی
’’میں 2009ء سے فرانس میں رہ رہی ہوں اور میں نے کبھی اجنبیت محسوس کی اور نہ ہی مجھے کسی نسل پرستانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا لیکن حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس نئے قانون کے بارے میں بحث شروع ہونے کے چند روز بعد مجھے ایک انتہائی نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا جو میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ ‘اُس روز میں بس میں سفر کے دوران کسی سے عربی زبان میں بات کر رہی تھی کہ اچانک ایک فرانسیسی خاتون نے مجھ پر چیخنا شروع کر دیا۔ وہ مجھے دہشت گرد اور مہاجر کہہ رہی تھی اور یہ کہ میں فرانس کے بغیر کچھ نہیں ہوں۔‘‘
مراکشی نژاد فرانسیسی اور الجزیرہ ٹی وی کے لیے کام کرنے والی حفضہ علامی کا مزید کہنا ہے کہ ’’میں سوچتی ہوں کہ میرے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جب کہ میں تو حجاب بھی نہیں کرتی۔ تو میں تصور کر سکتی ہوں کہ اسکارف یا عبایہ وغیرہ پہننے والی خواتین کو کیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایک صحافی کے طور پر کام کرنے میں مجھے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا، کیوں کہ فرانسیسی لوگ پڑھے لکھے اور قابل افراد کی عزت کرتے ہیں لیکن جب وہ کسی عرب مسلمان سے ملتے ہیں تو ان کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک جاہل اور غریب آدمی ہوگا۔ اس بارے میں فرانسیسی لوگوں کی سوچ کافی تنگ نظر اور طے شدہ ہے۔‘‘
فرانس کی قومی اسمبلی نے گزشتہ منگل کو ایک نئے قانون کی منظوری دے دی تھی جسے بقول فرانسیسی حکومت ’’شدت پسندی‘‘ اور ’’معاشرے سے الگ تھلک رہنے‘‘ کا مقابلہ کرنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب اس قانون کو ایوانِ بالا میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس قانون کی حمایت کرنے والے فرانسیسی سیاستدانوں کا کہنا ہے اس طرح تشدد کے واقعات کی اصل وجوہات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
قانون میں ہے کیا؟
اس قانون میں اسلام اور مسلمانوں کا نام تو نہیں لیا گیا ہے لیکن مبصرین کے خیال میں اس کی سمت مسلمانوں ہی کی جانب ہے اور وہی اس کا نشانہ بنیں گے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد سب کو فرانسیسی معاشرے کی بنیادی اقدار میں شامل کرنا ہے۔
عبادت گاہیں اور مذہبی تنظیمیں
نئے قانون کے تحت ’’عبادت گاہوں کو قوم پرستی‘‘ اور ’’دوسرے ممالک کی حکومتوں کی حمایت‘‘ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ سب کو ملک کے سیکولر تشخص کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ خاص طور پر ایسی تنظیموں اور عبادت گاہوں کی نگرانی کو ضروری قرار دیا گیا ہے جو ’’انتہا پسندانہ عقیدے کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔‘‘ اگر کسی مذہبی رہنما کے متعلق پتا چلا کہ وہ فرانسیسی اقدار کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے معزول کیا جا سکے گا۔ اس قانون کے تحت مذہبی تنظیموں اور عبادت گاہوں کو بند کرنے کے حکومتی اختیارات کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا۔ بیرون ملک جیسے ترکی، قطر یا سعودی عرب سے آنے والی مالی امداد اگر 10 ہزار یورو سے زیادہ ہوگی تو اسے ظاہر کرنا ہوگا اور کھاتوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔ مذہبی تنظیموں کے لیے مالی شفافیت کے نئے اصول وضع کیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کی مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے تمام مذہبی تنظیموں کو لکھ کر دینا ہوگا کہ وہ ’’فرانس کی لبرل اور روشن خیال اقدار‘‘‘ کو تسلیم کرتے ہیں۔
اسکول اور تعلیم
اس قانون کے تحت 3 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو
گھر پر تعلیم کی اجازت کی شرائط کو سخت کر دیا جائے گا تاکہ والدین کو بچوں کو اسکولوں سے دُور رکھنے سے روکا جا سکے جب کہ بلا اجازت قائم کیے گئے اسکولوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گھروں پر اسکولنگ کی کڑی
نگرانی ہوگی۔ اسی طرح زبردستی کی شادیوں کو رکوانے کے لیے حکومتی اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خاتون اور مرد کا الگ الگ انٹرویو کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کہیں ان کی شادی والدین کی جانب سے زبردستی تو نہیں کروائی جا رہی۔ فرانس کے قانون کے تحت بیک وقت ایک سے زیادہ شادیاں تو پہلے ہی سے ممنوع ہیں لیکن اس نئے قانون کے تحت ایسے تارکینِ وطن کو فرانس میں رہایشی اجازت نامہ نہیں مل سکے گا جن کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں۔
سیکولرازم کے اصولوں کا احترام
کسی بھی شخص یا ادارے کو، جس میں نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ریاستی خدمات فراہم کر رہی ہیں، سیکولرازم کے اصولوں کا احترام اور عوامی خدمات کی غیر جانبداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ پبلک سروس کو خدمات کی خلاف ورزی پر مجبور کرنے کی کسی بھی کوشش کی سزا 5 سال قید اور 75 ہزار یورو جرمانہ ہو سکتی ہے۔ کسی سرکاری ملازم کو مذہبی بنیادوں پر ڈرانے دھمکانے والوں کو بھی سخت سزا ہو گی۔ کسی سرکاری ملازم کی نجی معلومات شیئر کرنا اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسانا بھی جرم ہوگا۔
فرانس میں مبصرین اور سیاستدان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے اس قانون کا استعمال کر رہی ہے، لیکن وزیراعظم ژاں کیسٹیکس نے کہا ہے کہ یہ قانون مذاہب کے خلاف یا خاص طور پر اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ فرانس میں 60 لاکھ کے قریب مسلمان رہتے ہیں، جن کی اکثریت کا تعلق شمالی افریقی ممالک مثلاً الجزائر، مراکش اور تیونس سے ہے، جو فرانس کی کالونیاں رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس توہین آمیز خاکوں کو اسکول میں دکھانے والے استاد کے قتل کے بعد سے فرانس میں مسلمانوں کی طرف غصے کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے اور مبصرین کے خیال میں یہ قانون سازی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔


مسلمان ہونا ایک احساس جرم بن جائے گا
فرانس میں رہنے والے مسلمانوں کا خیال ہے کہ اس نئے متنازع قانون میں بظاہر تو کئی اچھے نکات ہیں لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس قانون کی آڑ میں مسلمانوں کو مزید دیوار سے لگایا جائے گا۔ مسلمان فرانسیسی معاشرے میں گھلنے ملنے کے بجائے مزید دُور ہو جائیں گے اور معاشرتی بیگانگی کا شکار ہوں گے۔ صحافی حفضہ علامی کہتی ہیں کہ یہ قانون مسلمانوں کو نشانہ بنائے گا جو رپبلکن اصولوں اور اقدار کے دشمن نہیں ہیں، وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہ قانون مسلمانوں کو ایک عام شہری کے بجائے اجنبی اور درانداز کے طور پر دیکھے گا۔ ان کے خیال میں یہ لوگوں کی شہری آزادیوں کو سلب کرے گا اور سیکولرازم کو تنگ نظری سے نافذ کرے گا۔ حفضہ نے خدشہ  ظاہر کیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے نسل پرستانہ قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مسلمان ہونا ایک احساس جرم بن جائے گا جس کے نتیجے میں مسلمان اپنی عبادت گاہوں میں جانے سے گریز کریں گے۔ مسجدوں میں جا کر عبادت کرنا اتنا سادہ عمل نہیں رہے گا۔ وہ مسلمان جو نوکریوں یا تعلیم کے لیے فرانس آنا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ فرانس میں مسلمانوں کی زندگیاں مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہیں۔
آصفہ ہاشمی پیرس کے شمال میں ایک مضافاتی علاقے کی رہائشی ہیں۔ وہ ایک طرف تو فرانسیسی معاشرے میں تمام رنگ و نسل اور مذہبی برادریوں کو ملنے والی آزادیوں اور برابری کی تعریف کرتی ہیں لیکن انہیں اس نئے متنازع قانون پر کچھ تشویش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی اقدار کو اپنانے کے لیے مسلمانوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور وہ کئی ایسے لوگوں کو جانتی ہیں جو اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جس طرح کی مذہبی زندگی چاہتے ہیں اس کی آزادی فرانس میں مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے جاننے والوں میں کئی لوگ ایسے ہیں جو یا تو اپنے ملک منتقل ہو چکے ہیں یا ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اس نئے قانون کی وجہ سے لوگوں کے خوف میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ جیسے اب ہر وقت ان کی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالات کے تناظر میں حکومت کو سخت سیکورٹی اقدامات کا حق ہے، تاہم کسی بھی مذہب کی قابل احترام شخصیات کے بارے میں بھی قانون ہونا چاہیے۔ آزادی رائے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دوسروں کی دل آزاری کی جائے۔
موجودہ صورتحال کا فرانس کی تاریخ سے تعلق
پیرس کے رہائشی اسد الرحمان فرانسیسی معاشرے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ پولیٹیکل سائنس کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن مسائل کے تدارک کے لیے یہ قانون متعارف کرایا جا رہا ہے بہت مشکل ہے کہ یہ قانون اس سلسلے میں کوئی مدد کر سکے۔اگر ہم اس صورتحال کو مذہب کے بجائے نسل کی بنیاد پر دیکھیں تو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔’فرانس کے مسلمانوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقا کے ممالک سے ہے جو فرانس کی کالونی رہے ہیں۔ فرانس کے ساتھ ان مسلمانوں کا ایک کلونیئل تعلق ہے جس میں بڑی پیچیدگی ہے۔ مثلاً اگر آپ الجزائر کی بات کریں تو اس نے تحریک چلائی اور فرانس سے آزادی حاصل کی۔ فرانس نے اس تحریک کو دبانے کے لیے ایک بھرپور آپریشن کیا لیکن آخر کار فرانس کو الجزائر سے نکلنا پڑا اور 1962ء میں الجزائر آزاد ہو گیا۔
اس کے بعد فرانس کی سیکورٹی اداروں میں جو زیادہ تر لوگ شامل کیے گئے یہ وہ فوجی تھے، جنھوں نے الجزائر کے لوگوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ ان ہی لوگوں کو فرانس میں پولیس میں بھرتی کیا گیا۔ نئے انتظامی ڈھانچے میں یہی لوگ شامل کر دیے گئے تو مسلمانوں کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات پہلے ہی سے موجود تھے جو مذہبی سے زیادہ نسلی تھے۔ سیکورٹی اداروں خاص طور پر پولیس میں ان لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے شمالی افریقا سے آنے والے مسلمانوں اور اداروں کے درمیان ایک منافرت کا رشتہ بن چکا ہے۔ اسد الرحمان کہتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی کی وجہ صرف یہ نہیں کہ چند سیاستدان کچھ وقتی فائدے حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں، جن سے انہیں آنے والے انتخابات میں کامیابی مل سکے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کی جڑیں فرانس میں بہت گہری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی اپنی نسل کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ وہ اپنی شناخت، روایات اور اقدار کی بقا کے معاملے پر بہت حساس ہیں۔ اس میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ مسلمان ایک ایسی اقلیت ہیں جو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں، جو معاشرے کی مختلف سطحوں پر نظر آنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ شناخت کو بچانے کا بحران صرف مسلمانوں میں نہیں ہے یہ احساس اور خوف خود فرانسیسیوں میں بھی ابھرا ہے اور حالیہ واقعات اس کا بھی اظہار ہیں۔
فرانس میں ’’فرانسیسی اسلام‘‘ کی کوشش
برطانیہ کی باتھ سپا یونیورسٹی کے پروفیسر افتخار ملک کہتے ہیں کہ فرانس اور یورپ کے کئی ممالک میں یہ ایک طرح کا اتفاقِ رائے ہے کہ اسلام اور خاص طور پر سیاسی اسلام کے نام پر تشدد کسی بھی وقت اور کہیں بھی ہونے کا احتمال ہے جب کہ فرانس کی مقامی سیاست میں انتہائی دائیں بازو اور ’سینٹرسٹ نظریات‘ کے سیاستدانوں میں اقتدار کی کشمکش جاری ہے۔ ڈاکٹر افتخار کے مطابق فرانس کے مسلمان نوجوانوں میں یہ تاثر عام ہے کہ انہیں فرانسیسی معاشرے کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانس کا معاشرہ اور فرانسیسی شناخت برطانیہ اور امریکا کی طرح ایک کثیر الثقافتی معاشرہ اور شناخت نہیں ہے۔ میرے خیال میں فرانس میں ایک فرانسیسی اسلام کی کوشش ہو رہی ہے۔
فرانس کی موجودہ صورتحال مستقبل میں کیا رُخ اختیار کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال وہاں رہنے والے مسلمان ایک طرح کی بے یقینی کا شکار ہیں۔ یہ نیا قانون مسلمانوں کے لیے فرانسیسی معاشرے کے دروازے کھولے گا یا مزید دریچے بند ہوں گے اس کا انحصار اقتدار کے ایوانوں میں کیے جانے والے فیصلوں پر ہو گا۔