قرض کی ایک اور قسط،زہر یا تریاق؟ ۔

168

خدا جانے یہ خبر پاکستانی عوام کے لیے خوش خبری ہے یا بدخبر کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا ہے۔ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان پانچ سو ملین ڈالر کے قرض کی قسط کے لیے جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ کورونا کے باعث قرض کی اگلی قسط کے معاملات تعطل کا شکار تھے۔ آئی ایم ایف نے 39ماہ کے تحت چھ ارب ڈالر کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سو ملین ڈالر کے قرض کی حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔ کچھ عرصہ سے قرض کی ایک اور قسط کی خاطر مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ آخر کار مذاکرات معاشی اصلاحات کی شرائط پر اتفاق کے بعد کامیاب ہوگئے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پہلے ہی عام پاکستانی کی چیخیں نکال رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس چیخ وپکار میں کمی ہونے کا امکان کم ہی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کسی پیشگی معاشی تیاری کے بغیر ہی میدان میں اُتری گویا اس حکومت نے پانی میں اترنے کے بعد ہی تیراکی سیکھنا شروع کی۔ عمران خان کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندے ملکی معیشت کو براہ راست کنٹرول کرنے قافلہ در قافلہ پاکستان پہنچتے رہے۔ ورلڈ بینک کے چنیدہ اور پسندیدہ حفیظ شیخ کا بطور مشیر خزانہ تقرر اس عمل کا نقطہ آغاز بنا۔ آئی ایم ایف کے ملازم رضا باقر اسٹیٹ بینک کے سربراہ ہیں۔ یہ ’’مہمان ٹیم‘‘ اپنے ساتھ معاونین کا لائو لشکر بھی لائی ہوگی۔ اس کے بعد آئی ایم ایف قرض کی قسط جاری کیے تھے۔ جس کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بھی اپنے معاشی رضاکاروں کو پاکستان میں کھپانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ جس سے وقت ’’اِدھر بھی وہی اَدھر بھی وہی‘‘ جیسی دلچسپ صورت حال پیدا ہو کر رہ گئی تھی کہ پاکستانی کی معاشی ٹیم کے نام پر آئی ایم ایف کے پاکستانی نمائندے اپنے ہیڈ آفس کے ساتھ ہی مذاکرات کر رہے تھے۔ پاکستانی نژاد نمائندے آئی ایم ایف سے عام پاکستانی کے لیے بڑا ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہے۔ اب نئی قسط عوام کے لیے کیا پیغام لاتی ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے گا۔
اس صورت حال کو دیکھ کر تو آصف زردار ی کہہ اٹھے تھے کہ یوں لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کا دفتر پاکستان منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے آئی ایم ایف کی اس موجودگی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج سے تشبیہ دی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے مہنگائی کو حکومت کے خلاف ایک کارڈکے طور پر جم کر کھیلنے کی کوشش کی مگر پاکستان کے صابر وشاکر عوام نے اپوزیشن کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اب بھی اپوزیشن اپنے مستقبل کے لانگ مارچ کو ’’مہنگائی مارچ‘‘ کا نام دینے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید بطور اپوزیشن ان کا حق ہے۔ ظاہر ہے کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن کا اصل کام ہی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی تنقید اور محاسبہ ہوتا ہے۔ یہ تو پاکستان میں عجیب پارلیمانی نظام تھا جس میں مفاہمتی پالیسی کے تحت اپوزیشن اور حکومت شیر وشکر رہنے لگے تھے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اس قدر راز ونیاز رہنے لگا تھا کہ دونوں کے درمیان حد امتیاز ہی ختم ہو گئی تھی۔ اپوزیشن لیڈر ڈپٹی وزیر اعظم بن کر رہ گئے تھے۔ پارلیمانی نظام میں اس عجیب و غریب طرح کے خالق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی تھے۔ اس پالیسی نے پارلیمانی نظام میں ایک تیسرے فریق کے لیے جگہ خالی کرنا شروع کی تھی اور یہ تیسرا فریق پی ٹی آئی بن گئی تھی۔ اب اپوزیشن جس طرح حکومت کو ایوانوں میں رگیدنے لگی ہے اس جمہوریت کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو گی۔ ان جماعتوں کا المیہ صرف یہ ہے کہ یہ ماضی قریب کی حکمران جماعتیں ہیں۔ ملک کو معاشی حالات کی موجودہ دلدل تک لا چھوڑنے میں ان جماعتوں کا پورا پورا حصہ ہے۔
معاشی ماہرین تسلیم کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو زبوں حال معیشت ورثے میں ملی۔ تاریخ میں اس زبوں حالی کی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ حکومت کو جاری کھاتے کا انیس ارب ڈالر سے زیادہ خسارہ ملاجبکہ بجٹ خسارہ چھ فی صد تھا۔ موجودہ حکومت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین جیسے دوست ملکوں سے آٹھ ارب ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی مگر ملکی معیشت کا دیوالیہ غیر ملکی قرضوں کی قسطوں کے باعث نکل رہا ہے۔ ماضی میں بڑے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضے قوم کی رگوں کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ قرض کی ہر قسط کی ادائیگی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کر تی جا رہی ہے۔ ان حالات کا الزام اب کس پر دھرا جائے؟ خزانہ ایک طرف تھوڑا بھر جاتا ہے تو قرض کی قسط اسے واپس نیچے پہنچاتی ہے اور اس طرح معیشت مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ ملکی معیشت پر اپوزیشن کی تنقید بجا ہے اور ہوتی رہنی چاہیے مگر حالات کا آئینہ بہت بے رحم اور سچا ہے۔ جب بھی اس میں جھانکا جائے گا تو کوئی اچھی صورت نظر نہیں آئے گی۔ ماضی قریب کی حکومتوں نے پاکستان کی معیشت کو بگاڑنے اور ملک کو معاشی طور پر ان گورن ایبل بنانے میں دانستہ یا نادانستہ بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس صورت حال نے آئی ایم ایف کو شیر بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط عائد کرکے پاکستانیوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ قرض کی ایک قسط کے بعد دوسری قسط کی عادت نے ہماری حالات اس نشئی کی سی بنا ڈالی ہے جسے ایک کے بعد دوسرے سگریٹ کی طلب ستانے لگتی ہے۔ آئی ایم ایف کی متوقع قسط کو اس منصوبہ بندی سے کام لایا جائے کہ دوبارہ اس ظالم جفا جو کے در کے طواف سے چھٹکارہ مل جائے یہ اس حکومت کا اصل امتحان ہے۔ اسد عمر تو آئی ایم ایف کا آخری بیل آئوٹ پیکیج کا دعویٰ کرتے رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے اپنے معاشی حکیم مریض جاں بہ لب کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ؟۔