وفاق کی پالیسیوں کے سبب زراعت تباہ ہو چکی ، اسماعیل راہو

52

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر برائے زراعت اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ وفاق کی ناقص زرعی پالیسی کی وجہ سے زراعت تباہ ہو چکی ہے۔اسماعیل راہو نے اپنے ایک بیان میں وفاقی حکومت کی زراعت سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاشتکار زرعی قرضے اور سود ادا نہیں کر پا رہے ہیں، وفاق کی پالیسیوں کے سبب زراعت تباہ ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی بارشوں سے سندھ کے 15 اضلاع میں کپاس، مرچی، ٹماٹر، پیاز، چاول، گنا اور دیگر فصل متاثر ہوئی، وفاق نے سندھ کے تباہ حال کسانوں کی کوئی دلجوئی نہیں کی۔اسماعیل راہو کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ نے پہلے بھی مطالبہ کیا کہ آفت زدہ اضلاع میں زرعی قرضے معاف کیے جائیں، وفاق ٹیکسٹائل ملز پیکج کی طرح کسانوں کو بھی زرعی پیکج دے، چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر بلا سود نئے قرضے دیے جائیں۔اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ ملک میں ڈی اے پی کھاد دستیاب نہیں ہے، 2018 ء میں 24 سو میں ملنے والی کھاد 5ہزار روپے میں مل رہی ہے، وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے سندھ کا کسان ٹماٹر مفت میں بانٹ رہا ہے۔ان کہنا تھا کہ کسان کی کمائی تو در کنار، 70ہزار فی ایکڑ لاگت بھی ڈوب گئی ہے۔